"ناقص غذا کے سبب سالانہ ایک کروڑ 10لاکھ اموات ہوتی ہیں"

پبلک نیوز: ناقص غذا دنیا بھر میں انسانوں کی سب سے بڑی قاتل بن گئی۔ یونیورسٹی آف واشنگٹن کے 27 سالہ غذائی تجزئیے میں ہوشربا انکشافات سامنے آ گئے۔ ناقص غذا کے باعث سالانہ ایک کروڑ دس لاکھ انسان موت کے منہ میں جانے لگے۔

 تفصیلات کے مطابق ناقص غذا غذا انسانی اموات کی تمباکو نوشی اور ہائی بلڈ پریشر سے بھی بڑی وجہ بن گئی۔ آج دنیا میں ہر5 میں سے ایک موت بری اور ناقص غذا کے باعث ہو رہی ہے۔

جریدے دی لانسٹ میں شائع ہونے والی تحقیقا تی رپورٹ کے مطابق ہر سال لاکھوں انسان غیر معیاری غذا کے باعث موت کو دعوت دے رہے ہیں۔ موٹاپا اپنی جگہ، لیکن ناقص غذا امراض قلب اور سرطان کا سب سے بڑا سبب بن چکی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روٹی میں ہو یا پروسیسڈ غذا میں، نمک انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ صرف نمک کی زیادتی کے باعث ہر سال 30 لاکھ لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اناج کی کمی بھی 30 جبکہ پھلوں کا کم استعمال بھی 20 لاکھ اموات کا باعث بنتا ہے۔

خشک میوے، سی فوڈ اور سبزیوں کا کم استعمال بھی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ ناقص غذا کے باعث ہونے والی ایک کروڑ دس لاکھ اموات میں سے 1 کروڑ کی بنیادی وجہ امراض قلب ہے جس میں نمک کا بنیادی کردار ہے۔

اعداد و شمار کے باعث پاکستان میں نمک کی زیادتی ایک لاکھ میں 100 سے 150 اموات کی وجہ بنتی ہے۔ نمک کی زیادتی کی وجہ سے سب سے زیادہ اموات ازبکستان اور سب سے کم اسرائیل میں ہوتی ہیں۔

بحیرہ روم کے خطے بالخصوص فرانس، سپین اور اسرائیل میں ناقص غذا کے باعث اموات کی شرح سب سے کم ہے۔ جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور وسط ایشیا میں یہ تعداد اس کے برعکس ہے۔

احمد علی کیف  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں