جعلی شادی اسکینڈل:11چینی باشندے 2روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

لاہور(شاکر اعوان) جعلی شادی اسکینڈل میں گرفتار 11 چینی جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیئے گئے۔ گرفتاری چینیوں نے مؤقف اپنایا کہ وہ بے قصور ہیں۔ کاروبار کے لیے پاکستان آئے تھے۔ عدالت نے ملزموں کو 13 مئی کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

 

شادی کے نام پر پاکستانی لڑکیوں کی خریدوفروخت میں گرفتار گیارہ چینیوں اور دو پاکستانیوں کو لاہور کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ایف آئی اے نے ملزموں کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ گرفتار چینیوں نے مترجم کے ذریعے عدالت کو بتایا کہ وہ بے قصور ہیں، کاروبار کے لیے پاکستان آئے تھے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے کہا کہ تفتیش کا عمل مکمل ہونے دیں، پھر عدالت جائزہ لے گی۔

متعلقہ خبر: اسلام آباد ائیرپورٹ سے پاکستانی لڑکیوں کو چین اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

عدالت نے گیارہ چینیوں کو مزید 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا، دو پاکستانی ملزم عنصر اور شوکت کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔ ایف آئی اے کے ہیومن ٹریفکنگ سیل نے پاکستانی لڑکیوں سے جعلی شادی کرنے اور ان سے جسم فروشی کرانے والے گروہ کے چینی سربراہ سمیت اب تک ایک درجن سے زائد ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔

 

ایف آئی اے انوسٹی گیشن افسر کے مطابق گرفتار ملزم خود کو جعلی طور پر مسلمان ظاہر کرتے اور پاکستانی خواتین سے شادی کر کے ان سے جسم فروشی کراتے تھے۔ ملزم خواتین کے اعضاء بھی فروخت کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں۔ چینی سفارتخانے نے گزشتہ روز بیان میں ان الزامات کو مسترد کر دیا، تاہم یہ کہا گیا کہ اگر کوئی چینی شہری پاکستان میں جرم کرتا ہے تو چین ان پر کریک ڈاؤن کی حمایت کرتا ہے۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں