13جولائی 23 کشمیریوں کی شہادت، تحریک آزادی کشمیر کی بنیاد کا اہم دن

(پبلک نیوز) جنت نظیر وادی کشمیر لہو لہو ہے۔ ہزاروں کشمیری حق خود ارادیت کے حصول کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ 13 جولائی 1931 کو 23 کشمیری سپوتوں نے جانوں کی قربانی دے کر تحریک آزادی کشمیر کی بنیاد ڈالی۔ اسی مناسبت سے آج دنیا بھر میں کشمیری یوم شہدائے کشمیر منا رہے ہیں۔

تقسیم ہند سے پہلے معصوم کشمیری ڈوگرہ راج کی غلامی کا طوق گراں نہ چاہتے ہوئے بھی زیب گلو کیے ہوئے تھے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ کشمیر کی تحریک آزادی کی ابتداء ڈوگرہ سامراج کے خلاف13 جولائی 1931ء کو شہادتوں کا نذرانہ دینے سے ہوئی۔ ہوا کچھ یوں کہ 21 جون 1931 کو خانقائے معلی سری نگر میں ایک اجتماع ہوا۔

اجتماع میں عبد القدیر نامی کشمیری سپوت نے ڈوگرہ سامراج کے خلاف اعلان جہاد کر دیا۔ طاقت کے نشے میں چور ظالم حکمرانوں نے بغاوت کا مقدمہ بنا کر اسے پابند سلاسل کر دیا۔ 13 جولائی 1931 کو اس مقدمہ کی سماعت کا آغاز ہوا تو سری نگر جیل کے باہر ہزاروں کی تعداد میں کشمیری جمع ہو گئے۔ اتنے میں نماز کا وقت ہوا اور ایک نوجوان نے اذان دینا شروع کر دی۔

بس پھر کیا تھا ڈوگرہ فوج نے اس نوجوان پرگولیوں کی برسات کر دی اور وہ جام شہادت نوش کر گیا۔ ابھی اس کا جسم حالت قیام سے زمین پر سجدہ ریز بھی نہ ہوا تھا کہ ایک اور کشمیری نوجوان کھڑا ہو کر اذان جاری رکھنے لگا۔ اس نوجوان کے سینے میں  بھی گولیاں اتار دی گئیں اور وہ بھی شہادت کے اعلی  رتبے پر فائض ہو گیا۔ ڈوگرہ فوج گولیاں چلاتی رہی اور کشمیری نوجوان، اذان اور جان دیتے رہے۔ یہاں تک کہ اذان کے ختم ہونے تک 23 نوجوانوں کی زندگیوں کا خاتمہ ہو گیا۔ یہاں سے کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کا با قائدہ آغاز ہوا۔

مگر کشمیریوں کی آزادی کی یہ عظیم جدو جہد ہنوز جاری و ساری ہے۔ اب مقابلے میں ہے مسلمانوں کا ازلی دشمن بھارت ۔ بھارت ایک لاکھ سے زائد  کشمیریوں کو شہید کر چکا  ہے۔ مگر آج بھی کشمیریوں کی تحریک آزادی ماند نہیں پڑی۔ وہ وقت دور نہیں جب ظلم کی ان تیرہ شبوں کا خاتمہ ہو گا اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت ملے گا ۔

 

عطاء سبحانی  1 سال پہلے

متعلقہ خبریں