8 اکتوبر2005ء کے ہولناک زلزلے کو 14برس بیت گئے

میرپور آزادکشمیر(آصف اقبال) آٹھ اکتوبر 2005 کے ہو لناک زلزے نے جہاں چند ہی لمحوں میں پاکستان اور آزاد کشمیر میں کھربوں روپے کی املاک تباہ کر دی، وہاں ہزاروں قیمتی انسانی جانیں بھی موت کے منہ میں چلی گئیں، سینکڑوں بچے یتیم اور بے سہارا ہو گئے، جو اس وقت کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ میں مقیم ہیں، میرپور میں ان بچوں کے لیے جنوبی ایشاء کا سب سے بڑا آرفن کمپلیکس تعمیر ہو چکا ہے۔


یہ آٹھ اکتوبر 2005ء کی صبح کے وہ مناظر ہیں، جب آٹھ بج کر 52 منٹ پر آزاد کشمیر میں آنے والے قیامت خیز زلزلے سے ہنستے بستے شہر اور دیہات چند لمحوں میں کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے، اس سانحہ میں جہاں ہزاروں انسان پلک جھپکتے ہی بے بسی کی تصویر بن کر موت کی وادی میں چلے گئے وہا ں سینکڑوں معصوم بچے بھی یتیم اور بے سہارا ہو گے، جو اس وقت کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ میں اپنے روشن مستقبل کے لیے تعلیم و تربیت حاصل کرنے میں مصروف ہیں لیکن اپنے والدین سے بچھڑنے کے غم کے ساتھ ساتھ تباہ کن زلزلے کے مناظر آج بھی انھیں یاد ہیں۔

 

کشمیرآرفن ریلیف ٹرسٹ میرپور میں گذشتہ 14 سالوں سے مقیم ان بچوں کی تعلیم وتربیت کے ذریعے انھیں معاشرے میں باوقار مقام دلانے کے لیے کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ میں غیر معمولی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ کورٹ کے چیئرمین چوہدری محمد اختر کا کہنا ہے کہ میرپور میں ان بچوں کے مستقبل کو مذید تابناک بنانے کے لیے عالمی معیار کے مطابق جنوبی ایشاء کا سب سے بڑا آرفن کمپلیکس تعمیر ہو چکا ہے۔2005ء میں آنے والے قیامت خیز زلزلے کو 14 سال بیت گئے، لیکن جب بھی یہ دن آتا ہے وہ مناظر ایک باہر پھر تازہ ہو جاتے ہیں اور جان سے پیارے اپنے بچھڑے بہت یاد آتے ہیں۔ میرپور آزاد کشمیر میں 8اکتوبر 2005ء کو آنے والے ہولناک زلزلے میں شہید ہونے والوں کی آج 14 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔

عطاء سبحانی  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں