2018 اور تھیٹر کی اصلاحات اور ترقی

لاہور (پبلک نیوز) 2018 تھیٹر ڈرامہ کے لیے کیسا رہا، کونسی جدت اور اصلاحات متعارف کروائی گئیں۔

 

تھیٹر ڈراموں میں شیکسپئیر کو جو عروج حاصل ہوا شائد ہی کسی اور کو حاصل ہوا ہو، عمر شریف، معین اختر، ببوبرال اور امان اللہ تھیٹر کے بہترین مزاح نگار ثابت ہوئے جن کے ذریعے ثقافت اور تہذیب کا خوبصورت عکس پیش کیا جاتا رہا لیکن جب سے تھیٹڑ کمرشلائز ہوا ہے تہذیب اور شائستگی کی جگہ ڈانس، بازاری جملوں اور جگتوں نے لے لی ہے۔ اب سٹیج ڈرامے فیملی تفریح نہیں رہے بلکہ مخصوص لوگوں کے لیے ہلڑبازی کا سامان ہیں۔

 

موجودہ حکومت کی جانب سے جہاں تھیٹر اور سٹیج کو بہتر کرنے کے لیے دوبارہ سے محنت کی جارہی ہے اسی ضمن میں اجوکا اور رفیع پیر تھیٹرکی کاوشیں بھی قابل تعریف ہیں۔ ادبی تھیٹرز اور تعلیمی اداروں میں قائم تھیٹریکل سوسائیٹیز کی کاوشوں کے یش نظر نہ صرف تھیٹر بہتر ہورہا ہے بلکہ نئی نسل میں تھیٹر دیکھنے اور کرنے کا شعور بھی اجاگر ہورہا ہے۔

حارث افضل  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں