2018 آپریشن رد الفساد کی کامیابیوں کا سال

فروری 2017 میں شروع ہونے والا آپریشن رد الفساد منطقی انجام کی طرف گامزن ہے۔ آپریشن رد الفساد کے تحت پنجاب میں رینجرز نے انسداد دہشتگردی کیلئے وسیع البنیاد کارروائیاں کیں۔

ملک بھر میں آپریشن ردالفساد کے تحت کارروائیاں جاری ہیں۔ بارڈر سکیورٹی مینجمیںٹ پر توجہ مرکوز ہے۔ ملک کو ہتھیاروں اور بارودی مواد سے پاک کرنا بھی آپریشن کا حصہ ہے۔  آپریشن ردالفساد نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کاثبوت ہے۔

2018 میں 45,764 انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کی گئیں۔ پنجاب میں 6، کے پی میں 4 اور بلوچستان میں 34 بڑے آپریشن کئے گئے۔ فروری 2017 سے اب تک 75894 مجموعی کارروائیاں کی گئیں۔ انگریز دور کے علاقہ غیر کا خاتمہ، فاٹا کی قومی دھارے میں شمولیت، آپریشن رد الفساد کی بڑی کامیابی رہی۔

2018 کے دوران دہشتگردی کے واقعات کی ماہانہ اوسط گھٹ کر 1 رہ گئی۔ 2013 سے 2017 تک ہر مہینے دہشتگردی کے 8 واقعات رونما ہوتے تھے۔ دہشتگردی کے واقعات میں شہری ہلاکتوں کی تعداد گھٹ کر 80 رہ گئی۔

2018 میں پاک افغان سرحد محفوظ بنانے کی طرف نمایاں پیشرفت ہوئی۔ 2611 کلومیٹر طویل پاک افغان سرحڈ پر باڑ لگانے کا منصوبہ کامیابی سے جاری ہے۔ 2018 تک 643 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگائی جا چکی ہے۔

کے پی اور سابقہ فاٹا کے 1343 کلومیٹر علاقے میں سے 461 پر باڑ مکمل ہو چکا ہے۔ بلوچستان کے 1268 کلومیٹر سرحدی علاقے میں سے 182 پر باڑ مکمل ہو چکا ہے۔ پاک افغان سرحد پر 843 میں سے 233 قلعوں کی تعمیر مکمل، 140 قلعے زیر تعمیر ہے۔

2018 میں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی پر بھرپور توجہ دی گئی۔ 4 مارچ 2018 کو گوادر میں سمندری پانی میٹھا بنانے کا پلانٹ مکمل کیا گیا۔ 5 مارچ کو تربت بلیدا روڈ پایہ تکمیل کو پہنچی۔ 5 مارچ کو کیڈ ٹ کالج آواران اور 8 مئی کو نسٹ کوئٹہ کیمپس مکمل ہوا۔

چیف آف آرمی سٹاف نے کیڈٹ کالج گوادر کی تعمیر کا اعلان کیا۔ فاٹا میں 78 ارب روپے کی لاگت سے 2009 سے 2018 تک 816 ترقیاتی منصوبے مکمل کئے گئے۔ یوتھ ایمپلایمنٹ پروگرام میں 14 ہزار انرولمنٹس، 5 ہزار غیر ملکی ویزے، آرمی سکولز میں 15 سو ملازمتیں دی گئیں۔

بنیاد پرستی کے خاتمے کے پرگرام کے تحت 669 افراد کی بحالی، فاٹا میں 800 کلومیٹر سے زیادہ سڑکوں کی تعمیر، سفر کے اوقات میں ایک تہائی کمی، لنڈی کوتل طورخم روڈ کے ساتھ جنوبی وزیرستان میں جنڈولہ سرنگ کی تعمیر بھی مکمل کی گئی۔

پاک فوج کی جانب سے فاٹا میں سمجی شعبے پر بھی بھرپور توجہ دی گئی۔ میرانشاہ میں 493 منصوبے مکمل، 30 لاکھ افراد براہ راست مستفید ہوں گے۔ وانا میں پائن نٹ پلانٹ کے ساتھ ایگری پارک بھی تعمیر کیا گیا۔

2018 میں فاٹا میں پاک فوج کی تعلیم پر بھی توجہ رہی۔ پارہ چنار میں اے پی ایس، وانا میں کیڈٹ کالج، خار میں ٹیکنالوجی کالج، چترال میں ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، 5 بڑے ہسپتالوں سمیت صحت کے شعبوں میں 42 منصوبے شروع کئے گئے۔

صحت کے شعبے میں پاک فوج کے منصوبوں سے 5384 ملازمتیں ملیں 13 لاکھ افراد مستفید ہوئے۔ پاک فوج نے میر علی میں تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال، جنوبی وزیرستان میں فاطمہ اسپتال مکمل کیا۔ خار  اور میرانشاہ میں ایجنسی ہسپتال کے ساتھ کئی دیگر منصوبے بھی مکمل کئے گئے۔

2018 میں امن و امان میں نمایاں بہتری کے باعث کے پی میں چوکیوں کی تعداد 331 رہ گئی۔

2018 کراچی کی روشنیوں کی بحالی کا سال

شہر قائد میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں 97 فیصد کمی واقع ہوئی۔ 2003 میں ٹارگٹ کلنگ کے 1762 واقعات رپورٹ ہوئے تھے جبکہ2018 میں صرف 5 واقعات سامنے آئے۔ کراچی میں دہشتگردی کے واقعات میں 99 فیصد کمی آئی۔

2003 میں کراچی میں دہشتگردی کے 330 واقعات ہوئے جبکہ 2018 میں صرف 2 واقعات رونما ہوئے۔ کراچی میں 2018 کے دوران بھتہ خوری میں 96 فیصد کمی ہوئی۔ 2018 میں کراچی میں اغوا کی وارداتوں میں 93 فیصد کمی دیکھی گئی۔

پاک فوج کی قیادت میں آپریشن سے پہلے جرائم کے لحاظ سے کراچی کا دنیا میں چھٹا نمبر تھا۔ 2018 کے وسط تک کراچی جرائم کے لحاظ سے 60 ویں نمبر پر آ چکا تھا۔ 2018 میں بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی 2933 خلاف ورزیاں۔

2018 جنگ بندی کی خلاف ورزیاں

بھارت کی طرف سے جنگ بندی کی خالف ورزیوں میں 55 افراد شہید اور 300 زخمی ہوئے۔ 2014 سے 2018 تک جنگ بندی کی خلاف ورزیاں 315 سے 2933 تک پہنچ گئیں۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں شہادتوں کی تعداد بھی 20 سے 55 ہو گئی۔

احمد علی کیف  5 ماه پہلے

متعلقہ خبریں