پنجابی کے عظیم صوفی شاعر وارث شاہ کا 221واں عرس

 

شیخوپورہ (پبلک نیوز) پنجابی زبان کے شیکسپیئر، عظیم صوفی بزرگ اور شاعر پیر سید وارث شاہ کے 221 ویں عرس کی تین روزہ تقریبات کا آغاز ہو گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور صوبائی اسمبلی کے ممبران سمیت عقیدت مندوں نے بھر پور شرکت کی ہے۔

 

برصغیر پاک و ہند کے عظیم صوفی شاعر ہیر رانجھا کے خالق پیر سید وارث شاہ کے عرس کی تقریبات کا آغاز کر دیا گیا۔ مزار کو غسل دینے کی تقریب منعقد ہوئی۔ ضلعی انتظامیہ اور صوبائی اسمبلی کے ممبران سمیت عقیدت مندوں نے بھر پور شرکت کی۔

 

عرس میں والی بال اور پنحابی مشاعرہ دوسرے اور تیسرے روز کبڈی، دنگل اور ہیر گائیگی کے مقابلہ جات منعقد ہوں گے۔ نامور شعرا، ادبا اور کھلاڑی شرکت کرینگے۔ اس نفسانفسی کے دور میں پیر سید وارث شاہ کی شاعری امن محبت بھائی چارے کا درس دینے کے ساتھ ساتھ روحانی تسکین کا باعث بھی بنتی ہیں۔

 

وارث شاہ پاکستان کے شہر جندیالہ شیر میں ایک نامور سید خاندان میں پیدا ہوئے اور وہ اپنے بیٹے سید بدرالدین کے توسط سے سید محمد المکی کی اولاد تھے ۔ان کے والد کا نام گلشیر شاہ اور والدہ کا نام کمل بانو تھا۔ وارث کے والدین کی موت اس وقت ہوئی جب وہ جوان تھے۔ وارث شاہ نے کامل روحانی رہنما کی تلاش میں برسوں گزارے۔

 

وارث شاہ نے قصور سے تعلق رکھنے والے  استاد غلام مرتضیٰ کے شاگرد ہونے کا اعتراف کیا جن سے انھوں نے تعلیم حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وارث شاہ پاکپتن سے بارہ کلومیٹر شمال میں واقع گاؤں ملاکا ہنس چلے گئے۔ یہاں وہ اپنی موت تک ایک چھوٹے سے کمرے میں رہے جو اب ایک تاریخی مسجد سے متصل ہے جسے مسجد وارث شاہ کہا جاتا ہے۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں