4 فروری: راجہ گدھ کی مصنفہ 'بانو قدسیہ' کی دوسری برسی

لاہور (پبلک نیوز) معروف مصنفہ بانو قدسیہ کو ہم سے بچھڑے 2برس بیت گئے۔ بانوقدسیہ نے راجہ گدھ سمیت کئی لازوال تصانیف تخلیق کیں۔ ٹی وی ڈراموں پر بھی انھوں نے کئی ایوارڈز اپنے نام کیے۔

بانوقدسیہ کہانیوں اور ڈراموں کا بے مثال نام ہے۔ 28 نومبر 1928 کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد بدرالزماں سرکاری عہدہ دار تھے۔ بانو قدسیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبہ میں حاصل کی۔ بانو قدسیہ تقسیم ہند کے بعد لاہور آگئیں۔

انھیں بچپن ہی سے کہانیاں لکھنے کا شوق تھا اور پانچویں جماعت سے انھوں نے باقاعدہ لکھنا شروع کر دیا تھا۔ اردو میں ایم اے کرنے کے دوران ہی معروف مصنف اور ادیب اشفاق احمد کی حوصلہ افزائی پر ان کا پہلا افسانہ ”آمادگی شوق“شائع ہوا۔ یہ افسانہ 1950 میں ادبی جریدے "ادبِ لطیف"میں شائع ہوا، یہ اس دور کا سرکردہ جریدہ تھا۔

دسمبر 1956 میں بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کی شادی ہو گئی۔ بانو قدسیہ نے افسانوں، ناولوں، ٹی وی اور ریڈیو ڈراموں سمیت نثر کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی۔

1981 میں شائع ہونے والا ناول 'راجہ گدھ' بانو قدسیہ کی حقیقی شناخت بنا۔ راجہ گدھ کے علاوہ بازگشت، امر بیل، دوسرا دروازہ، تماثیل، حاصل گھاٹ اور توجہ کی طالب قابل ذکر ہیں۔

حکومتِ پاکستان کی جانب سے انھیں 2003 میں ”ستارہ امتیاز“ اور 2010 میں 'ہلالِ امتیاز' سے نوازا گیا۔

خیال رہے کہ بانو قدسیہ کی وفات 4فروری 2017 کو لاہور میں ہوئی۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں