3 دسمبر معذورں کاعالمی دن پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جا رہا ہے

اسلام آباد(پبلک نیوز) تین دسمبر معذورں کاعالمی دن پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں معذروں کے علاج معالج کے لیے خصوصی اسپتال نہ ہونے کے برابر ہیں۔

 

نشینل انسٹیوٹ آف رہیبلٹشن میڈیکل پاکستان کا واحد سرکاری ہپستال جو ملک بھر کے دماغی اور جسمانی ہر عمر کے مریضوں کا علاج کر تا ہے روزانہ پانچ سو ماہانہ ماہانہ تقربیا دس ہزار اور سالانہ ایک لاکھ معذروں افراد میں جینے کی امنگ پیدا کرتا ہے۔

 

پاکستان میں معذور افراد کے لیے سرکاری سطح پر ہسپتالوں کی شدید کمی ڈاکٹرز کے مطابق گزرتے وقت میں پاکستان میں دماغی معذرو بچوں کی تعداد میں اضافے کا سبب کزن میرج ہے نِرم ہسپتال کو معذور افراد کے لیے مصنوعی انسانی اعضاء بنانے کا اعزاز بھی حاصل ہے جہاں پر ماہانہ تین ہزار سے زائد مصنوعی ہاتھ، بازو بنا کر مریضوں کو خوشگوار زندگی دی جاتی ہے۔

 

نرم کی طزر پر بنے ہسپتال معذور افراد کی زندگیوں کی دشواریوں کو ختم تو نہیں لیکن کم ضرور کر دیتے ہیں۔ معذروں کی بہتری کے لیے حکومتی سطح پر بہت سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے اس دن کو منا کر ان کے مسائل کو یاد دلایا جاتا ہے۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں