ادویات مہنگی ہونے کے بعد نایاب، جان بچانے والی 35 ادویات مارکیٹ سے غائب

اسلام آباد(پبلک نیوز) ادویات مہنگی ہونے کے ساتھ دھیرے دھیرے نایاب ہونے لگیں، جان بچانے والی 35 ادویات کو مارکیٹ سے غائب۔ وزرات صحت کی توجہ اور فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

 

تبدیلی بالآخر آہی گئی، پہلے مہنگائی سے مرے اور جو بچ جائے وہ بیماری سے مرے، کیونکہ ادویات مہنگی ہی نہیں غائب بھی ہو رہی ہیں۔ جان بچانے والی ادویات مارکیٹ سے غائب۔ 35 غائب ادویات میں کتے کے کاٹنے کی ویکسن اینٹی ریبیز سرفہرست۔ دل کے امراض، آرگن ٹرانسپلانٹ، انفیکشن، ڈپریشن، درد کے کنڑول کی ادویات شہریوں کے لئے نایاب۔ بلڈپریشر، الرجِی، سانس کی تکلیف، فالج کی ادویات بھی مارکیٹ میں ناپید ہو گئیں۔

اینٹی ربیز کی بڑی مقدار انڈیا سے امپورٹ ہوتی تھی جو کشیدہ حالات کی باعث انڈیا نے بند کر دی، جس کی وجہ سے دوا نایاب ہو گئی۔ ڈریپ کے مطابق اینٹی ریبز ویکسن کی فراہمی کے لیے ملک میں پانچ سورسز کام کر رہے ہیں۔ قومی ادراہ صحت پاکستان کا واحد ادارہ ہے جو کتے اور سانپ کے کاٹنے کی ویکسن تیار کرتا ہے۔ قومی ادارہ صحت کو دس لاکھ سالانہ پیدوار بڑھانے لئے وزرات صحت کی توجہ اور فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ اینٹی ربیز، اینٹی سیریم جیسی جان بچانے والی ویکسین کی پیدوار بڑھانے کے لئے قومی ادارہ صحت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

عطاء سبحانی  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں