برصغیر کےعظیم گلوکار محمد رفیع کو دنیا سے رخصت ہوئے 38 برس بیت گئے

ممبئی (پبلک نیوز) ہندی گاناہو، اردویا ہوفارسی، جو گایا خوب بھایا اور لاکھوں مداحوں کے دلوں میں راج کیا، برصغیر کےعظیم گلوکار محمد رفیع کو دنیا سے رخصت ہوئے 38 برس بیت گئے مگرمحمدرفیع کی آوازکاسحر آج تک ناٹوٹ سکا۔

 

24دسمبر1924 کو پنجاب کے مشہور گاؤں کوٹلہ سلطان سنگھ کے حاجی محمدعلی کے ہاں اس بچے کی پیدائش ہوئی جس کو سروں کا بے تاج بادشاہ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا، محمد رفیع نے پاکستان ریڈیو لاہور پر پنجابی نغموں سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا، پنجابی فلم "گل بلوچ" میں انہوں نےزینت بیگم کے ساتھ ریکارڈ کیا، تقسیم ہند سے قبل انہوں نے کئی

 

فلموں میں نغمے گائے، فلم جگنومیں ملکہ ترنم  نورجہاں کےساتھ  گایا"یہاں بدلہ وفاکابےوفائی کے سوا کیا ہے"ان کے ہزا روں یاد گار نغموں میں سے ایک ہے۔ محمد رفیع کی زندگی نے اہم موڑ اس وقت لیا جب اس وقت کے مشہور موسیقار نوشاد علی نے انہیں گانے کا موقع دیا۔ انہوں نے نوشاد علی کے ساتھ پہلی فلم "بیجوباورا" کے گیت گائے اور سپر ڈوپر ہٹ ہوئے پھر ایسی جوڑی مشہور ہوئی کہ دوبارہ راہیں جدانا ہو سکیں اور ترقی و شہرت کی ایسی سیڑھی چڑھے کہ آج بھی مداحوں کے دلوں پر راج کر رہے ہیں۔

 

محمد رفیع کو ہر طرح کی گائیکی میں ایسا کمال حاصل تھا کہ "من تڑپت ہری درشن کو آج" جیسا کلاسیکل گیت ہو یا"چاہے مجھے کوئی جنگلی کہے" جیسا چنچلی گانا ایسی مہارت سے گایاکہ امر کر دیا۔ محمد رفیع نے ہندی، اردو، ہنگالی، مراٹھی، بھوجپوری، تمل اور گجراتی سمیت  کئی زبانوں میں سربکھیرے۔ انہوں نے اپنے کیرئیرمیں لازوال گیت گا کر بین الاقوامی شہرت حاصل کی، جن کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو 6 فلم فیئر ایوارڈز سمیت پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا۔

 

ہاں اس بات کو ان جیسے ماہان گلوکار کو بھلانا کسی کے بس کی بات نہیں، کروڑوں دلوں پر اپنے سر سے راج کرنے والے محمد رفیع 31 جولائی 1980 کو مداحوں کو بھیگتی آنکھیں کے ساتھ چھوڑ کر سوں دور جا بسے۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں