4 محرم الحرام، جب لشکر امام حسین ؑ پر پانی بند کر دیا گیا

 

پبلک نیوز: 4 محرم، لشکر امام عالی مقام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہہ دین حق پر قربان ہونے کو بے قرار تھا۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہہ حبیب ابن مظاہر اور جناب حرؑ کی آمد کے منتطر تھے۔ مائیں بچوں کو شجاعت کی تلقین میں مشغول تھیں۔ بہنوں نے بھائیوں کو امامِؑ وقت کی اطاعت کا درس دیا۔ خیامِ حق میں حق و باطل کا معرکہ سر کرنے کی لگن عروج پر تھی۔

 

4 محرم الحرام 61 ہجری ایک روز قبل امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہہ اورآپ رضی اللہ عنہ کے رفقاء پر پانی بند کردیا گیا۔ اب لشکر امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہہ ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی اطاعت بجا لاتے ہوئے دین حق پر قربان ہونے کو بے قرار تھا۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہہ حبیب ابن مظاہر اور جناب حر ؑ کی آمد کے منتطر تھے۔ مائیں  بچوں کو شجاعت کے کارہائے نمایاں سرانجام دینے اور امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے حکم پر جام شہادت نوش کرنے کے وعظ و نصیحت میں مشغول تھیں۔

 

اسی طرح بہنیں بھائیوں کو نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کے حکم کی  مکمل بجا آوری کی تلقین کر نے کا فر یضہ سر انجام دے رہی تھیں۔ خیام اہلِ بیت و اصحاب حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہہ میں حق و باطل کا معرکہ سر کرنے کی لگن عروج  پر تھی۔

 

دوسری جانب اسی روز ابن زیاد نے کوفے کی جامع مسجد میں خطبہ دیتے ہوئے لوگوں کو امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے خلاف بھڑکایا۔ اس نے کہا کہ حکم یزید سے تمہارے لیے خزانوں کے منہ کھول دیے گئے ہیں۔ تم نواسہ ء رسول امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے لڑنے کے لیے آمادہ ہوجاؤ۔ اس کے کہنے پر بے شمار لوگ امام عالی مقام سے جنگ کرنے کو تیار ہوگئے۔

 

سب سے پہلے شمر نے درخواست روانگی کی۔ یوں شمر کو 4 ہزار، ابن رکاب کو 2 ہزار، ابن نمیر کو 4 ہزار، ابن رھینہ کو 3 ہزار اور ابن خرشہ کو 2 ہزار سوار دے کر کربلا کی جانب روانہ کر دیا گیا۔ تاکہ یزید کی اطاعت کرتے ہوئے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیارے نواسے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہہ مظلوم کا نا حق خون بہایا جائے۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں