'ہوسکتا ہے سعادت حسن مرجائے اور منٹو نہ مرے'

لاہور (پبلک نیوز) معاشرے کی ناپسندیدہ ترین تلخ حقیقتوں پر سے بے رحمانہ انداز میں پردہ ہٹانے اور اپنے قلم کے ذریعے انسانوں کی سنگدلی اور بے بسی کو آشکار کرنے والے بے باک ادیب منٹو کی آج 64 ویں برسی ہے۔

 

منٹو کا پورا نام سعادت حسن منٹو تھا، وہ 1912 میں بھارت کے علاقے لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ 1947 میں تقسیم ہند کے بعد پاکستان آکر لاہور میں رہائش اختیار کرلی۔انہوں نے انسانی نفسیات کو اپنا موضوع بنایا اور پاکستان بننے کے بعد یہاں منتقلی پر بھی افسانہ نگاری کا سلسلہ جاری رکھا۔

 

سعادت حسن منٹو نے قیام پاکستان کے بعد ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، دھواں اور بو سمیت درجنوں شاہکار افسانے تخلیق کیے۔ سعادت حسن منٹو 18 جنوری 1955ء کو 43 برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے مگر وہ آج بھی اپنی تحریروں سے اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

حارث افضل  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں