برصغیر کے قادرالکلام شاعر حسرت موہانی کی67 ویں برسی

پبلک نیوز: برصغیر کے قادرالکلام شاعر اور جری صحافی مولانا حسرت موہانی کی آج 67 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ قابض انگریزوں کے خلاف کلمہ حق کہنے پر انھوں نے محض لاٹھیاں اور گولیاں ہی نہیں کھائیں بلکہ قید و بند کی صعوبتیں اٹھائی تھیں۔

 

مولانا حسرت موہانی کا اصل نام سید فضل الحسن تھا، وہ یکم جنوری 1875 کو اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ ایم اے او علی گڑھ سے فارغ التحصیل حسرت موہانی نے سیاسی زندگی کا آغاز زمانہ طالبعلمی سے ہی کیا۔ مسلم لیگ سے وابستہ حسرت موہانی ایک جرات مند سیاستدان، صحافی اور قادرالکلام شاعر ہی نہیں بلکہ نڈر، بے باک اور جری صحافی، ناقد، صوفی اور مجاہد آزادی تھے،

ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی

اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی

 

مولانا حسرت موہانی پہلے کانگریس میں شامل رہے، تاہم ہندو رہنماؤں کی حکمت عملی دیکھ کر وہ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے، حق گوئی کے باعث ہندوستان بھر کے سیاسی قائدین بشمول قائداعظم محمد علی جناح آپ کی بڑی تکریم و تعظیم کرتے تھے، مولانا حسرت موہانی کا شاعری کا مجموعہ کلیات حسرت موہانی اب تک بہت مقبول ہے اور ان کی دیگر مشہور کتابوں میں شارح کلامِ غالب اور نکاتِ سخن شامل ہیں۔

 

مولاناحسرت موہانی نے 1903 میں اخبار اردو معلیٰ کا اجراء کیا اور اردو صحافت و سیاست کو ایک نیا موڑ دیا۔ حسرت موہانی اپنی ذات میں ایک سچے مسلمان، روشن خیال ہندوستانی، حوصلہ مند صحافی، حساس شاعر اور بے لوث سیاسی رہنما اور ایک پرعزم انقلابی تھے۔

حارث افضل  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں