7 محرم الحرام: جب حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ضرب تیشہ سے چشمہ جاری کر دیا

 

پبلک نیوز: 7 محرم الحرام کو لشکرِ حسینیؑ کا ذخیرہء آب ختم ہوا۔ آج کے دن امامِ عالی مقام کے ہمدمِ دیرینہ حبیب ابن مظاہرؑ کربلا پہنچے۔ عمرو ابنِ حجاج 500 سواروں سمیت نہر فرات پر تعینات تھا۔ اس کا مقصد امامِ حسینؑ اور ان کے رفقاء کے لیے حصولِ آب نا ممکن بنانا تھا۔

 

7 محرم 61 ہجری کو کربلا کے تپتے میدان میں لشکر امامِ عالی مقام حسین ؑ کے پاس ذخیرہء آب ختم ہو چکا تھا۔ فوجِ اشقیاں نے پہلے ہی 2 محرم الحرام کو امامِ مظلومؑ اور آپ ؑ کے رفقا پر پانی بند کر دیا تھا۔ کربلا کی گرمی جوبن پر تھی۔ مگر نواسہء رسولؐ اور آپؑ کے دلاور ساتھیوں کے لیے ریگِ تپاں کرب وبلا اور پیاس کی کوئی اہمیت نہ تھی۔

 

7 محرم ہی کو امام عالی مقام حسینؑ کے دیرینہ دوست حضرت حبیب ابن مظاہرؑ واردِ کربلا ہوئے۔ دوسری جانب عمرو ابن حجاج 500 سواروں سمیت نہر فرات پر تعینات تھا۔ اس کا مقصد نواسہ رسولؐ اور ان کے اہل بیت و اصحاب علیھم السلام کے لیے حصولِ آب نا ممکن بنانا تھا۔ اسکے علاوہ ایک لعین 4 اور شیست ابن ربعی 1000 کے لشکر کے ہمراہ نہر فُرات پر پہرہ زن تھا۔

 

دشمنانِ دین وآلِ رسولؐ پانی بند کرنے کے بعد امامِؑ عالی مقام پر طعنہ زنی کرتے رہے۔ عبداللہ اور ابن حوشب نے بندِ آب کے طعنے دیے۔ ان کے جواب میں مولا غازی عباسؑ نے خیمے سے 19 قدم کے فاصلے پر بجانبِ قبلہ ایک ضرب تیشہ سے چشمہ جاری کر دیا۔ آپؑ نے فرمایا ہمارے لیے پانی کی کمی نہیں، ہم یہاں امتحان دینے آئے ہیں، معجزہ دکھانے نہیں۔

احمد علی کیف  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں