ذوالفقار علی بھٹو کا 91واں یوم ولادت

منیرساقی

پاکستان کی تاریخ میں قائداعظم محمد علی جناح کے بعد کسی کو عوامی پزیرائی ملی تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو ہی تھے۔ وہ اپنی حیرت انگیز قائدانہ صلاحیتوں کے باعث قائدعوام، بابائے آئین کہلائے۔ قائدعوام کی آج سالگرہ ہے۔

قائدعوام، بابائے آئین غریبوں کے مسیحا، پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی عوام کے فلاح و بہبود اور انتھک جدوجہد سے عبارت تھی۔ انہوں نے 1974میں اسلامی سربراہی کانفرنس لاہورمیں کرا کے اپنی کرشماتی شخصیت کا لوہا منوایا۔

پانچ جنوری 1928 کولاڑکانہ میں پیدا ہونے والے ذوالفقارعلی بھٹونے۔ 1950 میں برکلے یونیورسٹی سے سیاسیات، آکسفورڈیونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لی۔ لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ غیرملکی یونیورسٹی اور ایس ایم لا کالج میں لیکچرر بھی رہے۔ 1953 میں سندھ ہائیکورٹ سے وکالت کا آغاز کیا۔

وزیرتجارت، وزیر اقلیتی امور، وزیرخارجہ، وزیر صنعت و قدرتی وسائل اور امور کشمیر، وزیر اطلاعات سمیت کئی اہم ذمہ داریاں سنبھالیں۔ 1967میں پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی۔ 1970 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ سقوط ڈھاکہ وجہ سے سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے جبکہ 71 سے 73 تک ملک کے صدر بھی رہے۔ 73 سے 77 تک پاکستان کے وزیراعظم۔

قائد عوام اپنی آخری عمرمیں دلبر داشتہ تھے۔ ذوالفقارعلی بھٹو کا کہنا تھا کہ انہیں اقتدارکی ہوس نہیں مگر وہ منصفانہ فیصلے کی تلاش میں ہیں۔

پانچ جولائی 1977کوآمروقت جنرل ضیاالحق نے مارشل لانافذ کیا اور ستمبر میں بھٹو کی نواب احمد خان قتل کیس میں گرفتاری ہو گئی۔ 18مارچ 1978کو ہائیکورٹ نے انہیں سزائے موت سنا دی۔ 6فروری 179کوسپریم کورٹ نے ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا اور 4 اپریل 1979کو انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں