آصف زرداری ملزم نہیں، نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم نہیں دیا: چیف جسٹس

اسلام آباد (پبلک نیوز) سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاوئنٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس نے اسفتسار کیا کہ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں کیوں ڈالا؟  ہم نے کن ملزموں کا نام ای سی ایل میں ڈالا اس کی وضاحت ضروری ہے۔

سپریم کورٹ میں 35 ارب روپے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ہر شخص کا اپنا وقار اور حرمت ہے۔ کسی کی تضحیک نہیں ہونے دیں گے۔ ایسا حکم نہیں دیں گے جس سے کسی کا حق متاثر ہو۔ آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا ہم نے نہیں کہا۔ پھر ان کا نام ای سی ایل میں کیوں ڈالا۔ آصف علی زرداری اور فریال تالپور ملزم نہیں۔ عدالت نے صرف ملزمان کے نام ہی ای سی ایل میں شامل کرنے کا کہا تھا۔

سماعت کے دوران آصف زرداری کے وکیل نے ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نجف مرزا کو تبدیل کرنے کی درخواست کی جس کو عدالت نے مسترد کردیا۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ کرپشن ہوئی ہے تو سامنے آنی چاہیے۔ نجف مرزا کو تبدیل نہیں کریں گے۔

علاوہ ازیں سپریم کورٹ سیکیورٹی حکام کی جانب سے آصف علی زرداری سمیت دس افراد کے لئے انٹری جکارڈز جاری کر دئیے گئے۔ سپریم کورٹ سیکیورٹی کی جانب سے جاری کردہ انٹری کارڈ زرداری ہائوس کے نمائندے نے حاصل کئے‎۔

حارث افضل  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں