عمران خان کا معافی نامہ قبول، این اے 53 میں کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد(پبلک نیوز) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ووٹ کی رازداری ظاہر کرنے سے متعلق کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی معافی قبول کرتے ہوئے این اے 53 اسلام آباد سے ان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

ووٹ کی رازداری کے معاملے پر چار رکنی بینچ نے تین ایک سے معافی قبول کی، چیف الیکشن کمشنر نے معافی قبول کرنے کی مخالت کی۔ ممبر سندھ، خیبرپختونخواہ اور بلوچستان نے نوٹس واپس لینے کی رائے دی۔ چیف الیکشن کمشنر کا مؤقف تھا کہ ووٹ کی حرمت پامال کرنے کے حوالے سے شواہد ریکارڈ ہونا چاہیئے۔ این اے ایک سو ترپن اسلام آباد سے عمران خان نے پولنگ بوتھ کے پیچھے جاکر مہر لگانے کی بجائے میڈیا کے سامنے ہی بیلٹ پیپر پر مہر لگائی، جس کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا تھا۔

 

بابر اعوان نے دستخط شدہ بیان حلفی الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیا، بیان حلفی میں چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا کہ وہ تمام رولز پر عمل کرتے ہوئے ووٹ ڈالنے اندر اکیلے گئے تھے، تاہم رش کے باعث پردے کی اسکرین گر گئی تھی، پولنگ اسٹاف سے پوچھا کہ ووٹ کہاں ڈالوں تو اسٹاف نے کہا کہ ٹیبل پر ہی بیلٹ پیپر رکھ کر کاسٹ کر دیں۔

 

جواب میں مزید کہا گیا کہ ٹیبل کے اطراف مہر لگاتے وقت میڈیا جمع تھا، ان کی مرضی یا اجازت کے بغیر تصاویر اور فوٹیج بنائی گئی، انہوں نے جان بوجھ کر ووٹ کی رازداری ظاہر نہیں کی، لہٰذا وہ اپنے اس غیر ارادی اقدام پر الیکشن کمیشن سے غیر مشروط معافی مانگتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے عمران خان کی جانب سے بیان حلفی اور حلف نامہ دینے کے بعد نوٹس واپس لے لیا۔

عطاء سبحانی  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں