احتساب عدالت نے شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا

لاہور(پبلک نیوز) آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل سماعت، حتساب عدالت نے گرفتار قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو جیل بھجوانے کے احکامات جاری کردیئے۔


سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر آج ساتویں بار احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے آغاز پر شہبازشریف کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کے 2011 سے 2017 تک کا ریکارڈ ٹیکس ریٹرن میں شامل ہے، ٹیکس قوانین میں تحائف کا ذکر کرنا ضروری نہیں، شہبازشریف نے ذاتی 20 کروڑ کی رقم سے تحائف دیئے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ یہ مسرور انور کون ہے۔ شہبازشریف کے وکیل نے بتایا کہ مسرور انور کا نام بھی ٹیکس ریکارڈ میں شامل ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ بتائیں کہ مسرور انور شریف فیملی کا ملازم ہے یا نہیں؟ جس پر شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ مسرور ملازم ہے کیش لے کر جاتا ہے، اسمگلر نہیں اور نہ ہی آشیانہ سے کوئی تعلق ہے۔

 

شہباز شریف نے کہا کہ رمضان شوگر مل ان کے بیٹے کی ہے، کیش وہیں سے آتا ہے۔ ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔شہبازشریف نے کہا وہ سیاست میں ہیں اور وزیراعلیٰ بھی رہے اس لیے ان پر الزام آیا۔ شہبازشریف نے کہا کہ ان کی آمدن سے زائد اخراجات کہیں نظر نہیں آئے۔ آشیانہ ٹھیکے کی منسوخی کے معاملے میں سب کچھ سامنے آچکا ہے۔ احتساب عدالت نے مزید جسمانی ریمانڈ کی نیب کی استدعا مسترد کرتے ہوئے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا حکم دے دیا۔

 

سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات بھی کیے گئے۔ شہباز شریف کی احتساب عدالت پیشی وقت عدالت کے باہر لیگی کارکنوں اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں۔ رکاوٹیں توڑنے پر پولیس کا مظاہرین پر لاٹھی چارج۔ متعدد کارکن زخمی ہوئے، کئی گرفتار بھی کر لیے گئے۔ لیگی کارکنوں کی شدید مزاحمت،عدالت کے باہر حالا کشیدہ ہو گئے۔

لیگی رہنماؤں اور کارکنوں نے عدالت کے باہر انڈے اٹھاکر احتجاج شروع کر دیا، مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے قول وفعل میں تضاد ہے، بہن علیمہ خانم کو این آر او دینے کا طعنہ دیا۔ شہبازشریف کی گرفتاری نیب اور حکومت کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔

 

واضع رہے کہ نیب لاہور نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو 20 اگست کی صبح 11 بجے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم میں بیان ریکارڈ کرنے کے لیے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔ شہباز شریف کے خلاف آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم زیر تحقیقات جاری ہے، جس میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی اور سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد پہلے ہی گرفتار ہوچکے ہیں۔

 

ڈی جی نیب نے گزشتہ ماہ پانچ ہائی پروفائل کیسز کی تحقیقات مکمل کر کے چیئرمین نیب کو بھجوائیں۔ ذرائع کے مطابق آشیانہ اقبال سکینڈل، صاف پانی کمپنی سکینڈل، ایل ڈی اے سٹی سکینڈل، لاہور پارکنگ کمپنی سکینڈل اور پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی سکینڈل کی رپورٹس شامل کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے ریجنل بورڈ میٹنگ میں گرفتاری کی منظوری دی۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں