آصف زرداری، فریال تالپور کے جوڈیشل ریمانڈ میں 12 نومبر تک توسیع

اسلام آباد(پبلک نیوز) میگا منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے جوڈیشل ریمانڈ میں 12 نومبر تک توسیع کر دی گئی۔ آصفہ بھٹو کی توہین عدالت کی درخواست پر جیل اتھارٹی کو آئندہ سماعت پر وکیل مقرر کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

 

منی لانڈرنگ اور پارک لین کیس کی سماعت اسلام آباد کی احتساب کے جج محمد بشیر نے کی، سابق صدر آصف زرداری اورانکی ہمشیرہ فریال تالپور کو سخت سکیورٹی حصار میں اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت لایا گیا، عدالت کے استفسار پر انور مجید کے وکیل نے میڈیکل رپورٹ پیش کی، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہر سماعت پر ایک ہی رپورٹ پیش کر دی جاتی ہے۔

 

دوران سماعت حسین لوائی کے وکیل نے صحافیوں اور پولیس اہلکاروں سے متعلق قابل اعتراض ریمارکس بھی دئیے۔ سابق صدر کے وکیل نے اپنے دلائل میں آصف زرداری کو جیل میں ذاتی مشقتی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا، جس پر پراسیکیوٹر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں مشقتی صرف جیل کا قیدی ہو سکتا ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ باہر سے کسی کو لاکر جیل میں مشقتی رکھ لیا جائے، ایسے تو کسی کی اہلیہ بھی کہہ دے گی، کہ جیل میں خاوند کی خدمت کرنے دی جائے۔

 

آصفہ بھٹو کی توہین عدالت کی درخواست پر رپورٹ جمع نہ کرائے جانے پر وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دئیے کہ جیل حکام توہین عدالت کر رہے ہیں، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض کیا۔ لطیف کھوسہ کا مؤقف تھا کہ توہین عدالت توجیل حکام کر رہے ہیں۔ نیب وکیل کیوں صفائی دیتے پھر رہے ہیں؟ نیب تو ریاست کا نمائندہ ہے ریاست توہین عدالت کرنیوالوں کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتی۔ عدالت نے جیل حکام کو آئندہ سماعت پر وکیل مقرر کرنے کا حکم جاری کیا۔

 

عدالت نے آصف زرداری اور فریال تالپور کے جوڈیشل ریمانڈ میں تین ہفتوں کی توسیع کرتے ہوئے میگامنی لانڈرنگ اور پارک لین کیس کی سماعت 12 نومبر تک ملتوی کر دی ہے جبکہ جیل میں سابق صدر آصف علی زرداری کو سہولیات دینے کے حوالے سے دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں