احتساب عدالت نے آغا سراج درانی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا

کراچی(پبلک نیوز) احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں آغا سراج درانی کی نیب کی ریمانڈ کے لیے درخواست مسترد کر دی، اور آغا سراج درانی کو جوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھیجنے کا حکم دے دیا، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پہلے اسی لیے ریمانڈ دیا کہ تفتیش مکمل کر لی جائے۔

 

احتساب عدالت میں آغا سراج درانی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی، جس میں نیب نے مزید 15 روز کے ریمانڈ کی استدعا کی، عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت نے آغا سراج درانی کو 26 اپریل تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

 

نیب نے مؤقف اپنایا کہ اس کیس کے 2 ملزمان نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر رکھی ہے، ملزم گلزار آغا سراج درانی کا دست راست ہے، آخری بار 15 روز کا ریمانڈ دیا جائے، عدالت نے تفتیشی افسر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے آغا سراج درانی کا تفتیشی افسر تبدیل کر دیا۔

 

عدالت نے سرزنش کی کہ یہ عدالت کا کام نہیں کہ آپ کے دفتر جاکر آپ کو آگاہ کرے، وکیل آغا سراج درانی نے کہا کہ نیب نے ابھی تک کال اپ نوٹس نہیں دیا، جبکہ عدالت کا نیب کو کہنا تھا پہلے ریمانڈ اسی لیے دیا کہ ملزمان سے تفتیش کی جا سکے۔

 

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرت ہوئے آغا سراج درانی نے کہا کہ ڈیڑھ ماہ ہوا ہے۔ نیب کی تحویل میں نیب نے اب تک کیا حاصل کیا نیب ہی بتا سکتا ہے۔ عدالت نے نیب کی جانب سے ریمانڈ میں توسیع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے آغا سراج درانی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں