ننھی زینب قتل کیس: ملزم عمران کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا

لاہور(پبلک نیوز) رندہ صفت انسان عمران کو تختہ دار پرلٹکا دیا گیا۔ ننھی زینب کے والد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ آج انصاف کےتقاضے پورے ہوئے سرعام پھانسی دی جاتی توعمران عبرت کا نشان بن جاتا۔

 

پاکستان کی تاریخ کا تیزترین ٹرائل مکمل ہونے کے بعد ننھی زینب کے قاتل کو آج انجام تک پہنچا دیا گیا۔ زینب کے والد کا کہنا تھا کہ مجرم کے چہرے پر کوئی ندامت نہیں تھی۔ بےخوف ہو کر درندہ تختہ دار تک آیا۔ امین انصاری کا بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں نے آنکھوں کے سامنے مجرم کو انجام پر پہنچتے دیکھا۔

 

انہوں نے کہاکہ مجرم کو آدھا گھنٹہ تک پھانسی پر لٹکایا گیا۔ آج سفاک انسان اپنےانجام کو پہنچ گیا۔ زینب کے والد کا مزید کہنا تھا کہ جو بھی ایسا فعل کرے اس کا یہی انجام ہونا چاہئے۔ سرعام پھانسی دی جاتی توعمران عبرت کا نشانہ بن جاتا۔ زینب کی ماں تاحال شدید صدمے سے دوچار ہے۔

 

واضع رہے کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سجاد احمد روزانہ کی بنیاد پر کوٹ لکھپت جیل میں سماعت کر کے تیز ترین ٹرائل مکمل کیا۔ عدالت نے مجرم کے بلیک وارنٹ جاری کرتے ہوئے 17 اکتوبر کو عمران کو تختہ دار پر لٹکانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے نور فاطمہ، مہرین، لابئہ، عمر، کائنات بتول، عائشہ آصف، ایمان فاطمہ کے مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے 21 بار سزائے موت اور 300لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنا رکھی ہے۔

 

سفاک قاتل عمران نے قصور میں نھنی بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا تھا۔ 7 سالہ نور فاطمہ کو عمران نے 11 اپریل 2107 کو قصور امین ٹاون سے اغوا کی اور 2 فرلانگ کے فاصلے پر زیر تعمیر مکان میں زیارتی کے بعد قتل کردیا۔ مجرم کے خلاف تھانہ صدر قصور میں مقدمہ درج ہوا۔

 

8 سالہ لائبہ عمر کو بستی خادم آباد سے 8 جولائی 2017 کو اغوا کیا اور 500 میڑ فاصلے پر شاہ عنایت کے قریب زیر تعمیر مکان میں درندگی کا نشانہ بنایا اور قتل کیا۔ 6 سالہ کائنات بتول 12 نومبر 2017 قصور گارڈن سے اغوا کیا۔ درندہ صفت نے لکڑی کے ٹال میں رات گئے زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھینک دیا۔ موجزانہ طور کائنات بتول زندہ بچ گئی اور تشویشناک حالت میں ابھی بھی زیر علاج ہے۔

 

12 سالہ عائشہ آصف 7 جنوری 2017 قصور بی ڈویژن سے اغوا کیا گیا معصوم کلی کو سیٹھی کالونی کے قریب زیر تعمیر مکان میں درندگی کے بعد قتل کیا گیا 8 سالہ نورین کو حیات آباد سے 9 جولائی 2017 کو اغوا کیا اور ندرون موری گیٹ قصور کے قریب زیادتی کے بعد قتل کر دیا۔ 4سالہ ایمان فاطمہ کو سفاک قاتل نے 24 فروری 2017 کو قصور علی پارک سے اغوا کیا اور آدھا کلو میٹر کے فاصلے پر زیر تعمیر مکان میں زیادتی کا نشانہ بنایا اور قتل کر ڈالا جبکہ پولیس اس کیس میں پہلے ہی جعلی پولیس مقابلے میں مدثر نامی نوجوان کو پار کر چکی ہے۔

عطاء سبحانی  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں