نوازشریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت پر مزید سماعت 19جون کو ہو گی

اسلام آباد(پبلک نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت پر سماعت، نیب کے جواب جمع نہ کرانے پر عدالت کا اظہار برہمی، آئندہ سماعت پر ڈٰی جی نیب طلب، جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا ہے کہ نیب اتنا کام کرے جتنی صلاحیت ہے۔

 

درخواست ضمانت پر جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ نیب نے عدالت میں جواب جمع نہ کرایا، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ جواب جمع نہ کرنے سے عدالت کا وقت ضائع ہوا ہے، یہ درخواست گزار سے بھی زیادتی ہے، دو ہفتہ کا وقت دیا تھا، جواب جمع نہ ہوا، کون ذمہ دار ہے، نیب کو کتنا جرمانہ کریں؟ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ نیب چار چار ہفتے تک جواب جمع نہیں کراتی، جس کے باعث کیسز التواء کا شکار رہتے ہیں۔

 

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ نیب جواب جمع نہ کرانے کی وضاحت عدالت میں پیش کرے۔ پراسیکیوٹر نیب نے جواب جمع کرانے کے عدالت سے مزید مہلت کی استدعا کی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ کسی نہ کسی ایسے فرد کا نام بتائیں، جو پھنس سکے۔ جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر ڈی جی نیب کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں طلب کر لیا۔ نیب کو تین دن میں جواب کی کاپی نواز شریف کے وکلاء کو فراہم کرنے کا حکم بھی دے دیا۔ کیس پر مزید سماعت انیس جون کو ہو گی۔

عطاء سبحانی  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں