اہداف کے حصول کیلئے کچھ لوگوں کو ناراض کرنا پڑا تو تیار ہیں:مشیرخزانہ

اسلام آباد(پبلک نیوز) مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ بجٹ چیلنجنگ دور میں پیش کیا گیا۔ حکومت جب اقتدار میں آئی تو 31 ہزار ارب روپے کا قرض ورثے میں ملا۔ ہماری ٹیکس اور آمدن کی شرح 12 فیصد ہے۔ مسلح افواج نے رضاکارانہ طور پر اپنے بجٹ کو گزشتہ سال کی سطح پر منجمد کیا۔

 

پوسٹ بجٹ کے حوالے سے مشترکہ پریس بریفنگ دیتے ہوئے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت جب اقتدار میں آئی تو 31 ہزار ارب روپے کا قرض ورثے میں ملا، چار ہزار ارب روپے ٹیکس آمدن میں سے دو ہزار ارب روپے قرض پر سود کی ادائیگی میں استعمال ہو رہا تھا۔ ایک سو ارب ڈالر کے غیر ملکی قرض تھے۔ پانچ سالوں میں برآمدات میں صفر فیصد اضافہ تھا۔ پٹرولیم مصنوعات کی مؤخر ادائیگی کیلئے ساڑھے چار ارب ڈالر کی سعودی عرب سے امداد حاصل کی، ہماری ٹیکس اور آمدن کی شرح 12 فیصد ہے، اس کو بہتر بنانا ہے۔ سول حکومت کے اخراجات کو 468 سے کم کر کے 431 ارب روپے کیا گیا۔

 

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ مسلح افواج نے رضاکارانہ طور پر اپنے بجٹ کو گزشتہ سال کی سطح پر منجمد کیا، پاکستان ڈیفالٹ نہیں کر سکتا، دوسروں نے جو قرض لئے وہ بھی آ دا کریں گے۔ قرض پر سود کی ادائیگی کہ 2900 ارب روپے رکھے گئے۔ دفاعی شعبے کیلئے 1150 ارب روپے مختص کئے گئے۔ غریب بجلی صارفین کیلئے 216 ارب روپے کی سبسڈی رکھی گئی۔ ترقیاتی بجٹ کیلئے زیادہ محنت کرنا ہے۔ فاٹا کے ضم ہونے والے علاقوں میں 152 ارب روپے مختص کئے ہیں، ان علاقوں کو ملک کے باقی علاقوں کے برابر لایا جائے گا۔ نجی شعبے کی مدد کی جائے گی۔ اہداف کے حصول کیلئے کچھ لوگوں کو ناراض کرنا پڑا تو تیار ہیں۔

 

مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ماحول میں بجٹ پیش کیا گیا جب ملکی معیشت مشکلات کا شکار تھی،31000ارب روپے قرض حکومت کو ورثے میں ملا، 2000 ارب روپے قرضوں کے سود پر خرچ ہو جاتا ہے۔ فوجی اور ترقیاتی منصوبوں کو پورا کرنے کیلئے قرض لیا جاتا ہے، ہم ملکی قرض کو ختم کرنے کی جانب اقدامات کر رہے ہیں۔ قرض سے نکلنے کیلئے اقدامات کرنے کے باوجود ہم پر تنقید ہو رہی ہے۔ پاکستان نے بیرون ممالک سے 100 ارب روپے سے زائد کے قرض لئے ہیں۔ بیرون ملک سے قرض ڈالر میں لیا جاتا ہے اور ڈالر میں ادا کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ڈالر کمانے کی شرح میں اضافہ نہیں ہوا۔

حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر پر خصوصی توجہ دی گئی۔ درآمدات میں کمی کیلئے اقدامات کیے گئے۔ حکومت نے اپنے اخراجات کم کئے ہیں۔ سول حکومت کے اخراجات کو واضح طور پر کم کیا، رواں سال اخراجات کو 468 سے کم کر کے 431 کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار فوج کے بجٹ میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ ہائی لیول اور لیڈر شپ ملکی معیشت کو بہتر کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ ماضی کے قرضوں کے سود کی ادائیگی کیلئے 2900 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سوشل سیفٹی نیٹ کا بجٹ دوگنا کر دیا ہے۔ سوشل سیفٹی نیٹ کا بجٹ 100 سے 191 ارب کیا گیا ہے۔ بجلی کی قیمتیں بڑھنے پر کم استعمال والے صارفین کو سبسڈی ڈی جائے گی۔

 

کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی سبسڈی کیلئے 216 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ترقیاتی بجٹ کی مد میں 950 ارب روپے رکھا جارہا ہے۔ گزشتہ سال ترقیاتی بجٹ کی مد میں 550 ارب روپے رکھے گئے تھے۔ قبائلی اور بلوچستان کے زیادہ غربت میں رہنے والے علاقوں کئلئے 152 ارب رکھے گئے ہیں، کم آمدن والے افراد کیلئے لون سبسڈی دینے کیلئے اقدامات کئے ہیں۔ برآمدات کرنے والوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہو گا۔ برآمدی شعبے کی اندرون ملک فروخت پر دیگر شعبوں کی طرح ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ ٹیکسٹائل کا شعبہ ملک میں 1200 ارب روپے کا کپڑا فروخت کرتا ہے جس پر صرف 6 ارب روپے کا ٹیکس دیا جاتا ہے۔ ٹیکس ریفنڈ کا نیا طریقہ کار اختیار کیا جا رہا ہے۔

 

مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا مزید کہنا تھا کہ سیلز ٹیکس ہر چیز کی قیمت فروخت پر وصول کی جائے گی، ٹیکس ادا نہ کرنے والے افراد پر گاڑی یا مکان کی خریداری پر 45 دن کے بعد نوٹس جاری کیا جائے گا۔ نوٹس میں آمدنی کا تعین اور جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ برآمدی شعبے پر ٹیکس چھوٹ برقرار رہے گی، اگر برآمدی سیکٹر اپنی اشیاء اپنے ملک کے اندر بیچیں گے تو ٹیکس دینا ہو گا۔ ٹیکسٹائل سیکٹر 1200 ارب روپے کا کاروبار کرتا ہے، لیکن ٹیکس صرف 6 سے 8 ارب روپے دیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش اور چین جیسا ٹیکس ریفنڈ سسٹم متعارف کروائیں گے۔


انہوں نے کہا کہ نان فائلز اور فائلر کا سسٹم ختم کیا جا رہا ہے، نان فائلر اگر گاڑی یا زمین خریدے گا تو سے فائلر بننا پڑیں گا، اگر نان فائلر20 لاکھ کی گاڑی خریدے گا تو اس سے پوچھا جائے گا کہ پیسہ کہاں سے کمایا، امپورٹ کی 1655 ٹیرف لائینز پر ڈیوٹی صفر کردی ہے۔ تنخواہوں میں گریڈ 1 سے 16 تک 10 فیصد اضافہ کیا گیا۔ گریڈ 17 سے 20 کے افسران کی تنخواہ میں پانچ فیصد اضافہ کیا گیا۔ گریڈ 21 سے 22 کے افسران کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، وفاقی کابینہ کے ممبران کی تنخواہوں میں 10 فیصد کٹوتی کی گئی۔

 

چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ سیکٹرول سسٹم پر گئے ہیں کہ کونسے سیکٹر کم ٹیکس دے رہے ہیں، بجٹ میں انسٹی ٹیوشنل رویو پر گئے ہیں، جس سے عام لوگوں پر کم اثر پڑیں گا، جو کمپنیاں ٹیکس ادا نہیں کرتی، ان کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے۔ حفیظ شیخ نے کہا کہ اگر ہم نے لون لئے اور اس کا استعمال غلط کیا تو ہم سے پوچھ گچھ ہونا چاہئے، زیادہ تر لون ماضی کے قرض کی ادائیگی کیلئے لئے گئے۔ صوبوں کو دی جانے والی رقم کو نہیں روک سکتے، ماضی میں لئے گئے قرض پر سود کی ادائیگی کو نہیں روک سکتے۔ پاور سیکٹر میں بہتری آرہی ہے۔ سول حکومت کے اخراجات کو واضح طور پہ کم کیا ہے۔

 

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان کا کہنا تھا کہ پختون کے علاقوں میں 152 ارب روپے میں سے 85 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔ فوج کے بجٹ اے 175 ارب روپے کی اسپیس بنائی گئی۔ سول حکومت کے اخراجات سے 50 ارب روپے کی اسپیس بنائی گئی، برآمدی انڈسٹری کو بجلی اور گیس میں سبسڈی فرام کی جائے گی۔ زرعی شعبے کے ٹیوب ویلز کو نیپرا ریٹس سے آدھی قیمت پر دی جارہی ہے، مشیر حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول ایگری منٹ ہو گیا ہے، آنے والے چار ہفتوں تک معاہدہ طے ہو جائے گا۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں