سردی کے دورانیہ میں کمی لمحہ فکریہ، حکومت نمٹنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے: ملک امین اسلم

پبلک نیوز: نومبر کا آخری ہفتہ اور سردی کی شدت میں بدستور کمی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ سردیوں کے دورانیہ میں واضع کمی آگئی ہے۔ سردیوں کے دورانیے میں کمی کا سب سے بڑا سبب موسمیاتی تبدیلی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے پاکستان پر کیا منفی اثرات مرتب ہورے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی پاکستان پر مختلف طریقوں سے اثر انداز ہو رہی ہے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان دس ممالک میں ہوتا ہے جو شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور واقعات سے گزر رہے ہیں جن میں سیلاب، خشک سالی، طوفان، شدید بارشیں اور گرم درجۂ حرارت شامل ہیں۔

گرم درجہ حرارت کی بات کی جائے تو پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث گرمیوں کی مدت طویل جبکہ سردیوں کی مدت قلیل ہوتی جارہی ہے اور بہار کا موسم بلکل معدوم ہوتا جارہا ہے۔ یہ رجحان نا صرف پاکستان میں بلکہ جنوبی ایشیا خطے کے کئی ممالک جو موسمیاتی تبدیلی کے زیر اثر  ہیں ان میں نظر آتا ہے۔

اس حوالے سے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ سردی کے دورانیہ میں کمی لمحہ فکریہ ہے مگر اس سے نمٹنے کے لیے حکومت اقدامات کر رہی ہے۔

سردی کے دورانیے میں کمی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نا صرف انسانوں کے لئے مضر ہیں بلکہ جانوروں پر بھی س کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ڈائرکٹر جنرل حماد نقی کا کہنا ہے کہ موسم کی تبدیلی جانوروں کے habitat کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ رواں سال بھی سردی کے دورانیہ کم رہے گا، سردی کی شدت میں دسمبر کے چوتھے ہفتے سے پروان چڑھے گی اور اپریل کے آخر تک سردی کی شدت مکمل دم توڑ جائے گی۔

موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لئے سنگین مسئلہ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے واکے مںفی اثرات اور مسائل سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

احمد علی کیف  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں