ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس مستعفی ہو گئے

لاہور (پبلک نیوز) لاہور ہائیکورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ توہین عدالت کی کارروائی پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے عہدہ چھوڑ دیا۔ جسٹس ملک شہزاد دوران سماعت برہم ہو گئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب  کو روسٹرم  پر بلا لیا گیا۔ ریمارکس دیئے کہ یہ ہے نیا پاکستان، وزیراعلیٰ کو بلائیں تواتنے وکیل آجاتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاون جے آئی ٹی کی سربراہی ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کو دینے پر عدالت کی جانب سے برہمی کا اظہار کیا گیا۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے اعتراض کیا کہ ایک ایسے شخص کو جے آئی ٹی کی سربراہی دی جا رہی ہے۔ جس کے خلاف پہلے ہی توہین عدالت کی کارروائی چل رہی ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ہی ملزم بن کہ کھڑا ہوں گے تو کیا ہو گا؟ عدالت نےاحمداویس توہین عدالت کیس کافیصلہ محفوظ کر لیا جو 19اپریل  کو سنایا جائے گا۔

عدالت نے وزیراعلیٰ پنجاب کو روسٹرم پر بلا لیا۔ دوران سماعت وکلا کے عدالت کا دروزاہ کھٹکھٹانے پر جسٹس ملک شہزاد برہم ہو گئے۔ انھوں نے کہا یہ کہ ہے نیا پاکستان، جہاں وزیراعلیٰ کو بلائیں تو اتنے وکیل آ جاتے ہیں۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ایڈووکیٹ جنرل کی جگہ نیا افسر مقرر کریں گے۔

صوبائی وزیر راجہ بشارت نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے متعلق عدالت کو حکومتی مؤقف سے آگاہ کر دیا۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رضاکارانہ طور پر مستعفی ہوئے ہیں۔

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں