ایف آئی اے نے آصف زرداری کے قریبی ساتھی حسین لوائی کو گرفتار کر لیا

کراچی (پبلک نیوز) وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے 35ارب روپے مالیت کے منی لانڈرنگ سکینڈل میں تحقیقات کے لیے سمٹ بینک کے سابق صدر اور پاکستان سٹاک ایکسچینج کے چئیرمین حسین لوائی کو حراست میں لے لیا ہے۔ ادارہ کی جانب سے سندھ کی اہم ترین سیاسی شخصیت، ان کے قریبی کاروباری دوستوں، پراپرٹی ٹائیکون  کے خلاف جلد مقدمہ درج کرلیا جائے گا۔

پبلک نیوز کے مطابق ایف آئی اے کرائم سرکل کراچی نے تقریبا 3سال قبل چار بے نام کمپنیوں کے اکاؤنٹس کا سراغ لگایا تھا جن میں تقریباً 20ارب روپے کی ٹرانزیکشنز کی گئی تھیں۔ ایف آئی اے حکام کی تحقیقات کے دوران سامنے آیا کہ تینوں کمپنیوں کے ایڈریس جعلی ہیں۔ تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ جعلی کمپنیوں کے بے نام اکاؤنٹس میں آنے والے اربوں روپے پاکستان کے سب سے بڑے پراپرٹی ٹائکون اور سندھ حکومت سے اربوں روپے کے ٹھیکے لینے والی دیگر کمپنیوں کے اکاؤنٹس سے منتقل کیے گئے ہیں جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یہ رقوم کرپشن کی مد میں ادا کی گئی ہیں۔

ایف آئی اے نے جعلی کمپنیوں کے اکاؤنٹس کی چھان بین کی تو انکشاف ہوا کہ یہ رقوم پاکستان پیپلز پارٹی سے قربت رکھنے والی کاروباری شخصیت انور مجید اور اس وقت سمٹ بینک کے صدر حسین لوائی کے دست راست آپریٹ کر رہے ہیں اور رقوم کو مختلف بینک اکاؤنٹس میں منتقل کر کے پاکستان پیپلز پارٹی کی اہم شخصیات کی ایئر ٹکٹس، گاڑیوں کی خریداری اور دیگر اخراجات پر خرچ کیے گئے جبکہ بڑے پیمانہ پررقوم کیش  بھی کرائی گئیں۔

نامعلوم وجوہات کی بنا پر ایک ماہ بعد ہی اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے محمد املیش نے تحقیقات کو بند کر دیا۔ گزشتہ سال دسمبر میں پولیس سروسز آف پاکستان کے سینئر افسر بشیر میمن کی بطور ڈی جی ایف آئی اے تعیناتی کے بعد جنوری میں ایک مرتبہ پھر تحقیقات کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی درخواست پر اسی طرح کی 6مزید کمپنیوں سمیت دس کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹس میں ہونے والی منی لانڈرنگ کی تحقیقات ایف آئی اے اسٹیٹ بینک کے سپرد کی گئیں۔ اب تک کی تحقیقات کے دوران سمٹ بینک، سندھ بینک اور یو بی ایل کے انتیس بینک اکاؤنٹس سامنے آچکے ہیں۔

واضح رہے کہ حسین لوائی پاکستان اسٹاک ایکسینج کے چیئرمین اور سمٹ بینک کے وائس چیئرمین بھی ہیں۔ حسین لوائی پر پچیس ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔ ان کو ایف آئی اے نے کراچی میں کارروائی کے دوران گرفتار کیا ۔ پیر کو اس مقدمہ کی سماعت سپریم کورٹ میں کی جائے گی۔ یہ بھی یاد رہے کہ 7افراد کے شناختی کارڈز پر 29جعلی اکاؤنٹس بنے تھے، جن کے ذریعہ 30ارب سے زائد کی کرپشن کی گئی۔ اس کیس میں مزید گرفتاریوں کا بھی امکان ہے۔

ایف آئی اے رپورٹ کے مطابق آصف زرداری کے قریبی ساتھی کے ملازم کے اکاؤنٹ میں اربوں کی ریل پیل رہی۔ سات افراد کے شناختی کارڈز پر 29 جعلی اکاؤنٹس بنائے گئے۔ ان اکاؤنٹس کے ذریعہ 30 ارب روپے سے زائد کی کرپشن کی گئی۔ سمٹ اور سندھ بینک سمیت تین بینکوں میں اکاؤنٹس کھولے گئے۔ یہ اکاؤنٹس انور مجید کے اومنی گروپ کے ملازمین استعمال کرتے تھے۔ صرف سمٹ بینک کے 16 اکاؤنٹس کے ذریعہ 20ارب کا لین دین ہوا۔ یہ بھی خیال رہے کہ 3جولائی کو پیپلز پارٹی کی جانب سے بشیر میمن کے تبادلہ کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔

اکاؤنٹس میں ملک ریاض کے داماد زین ملک، شاہ رخ جتوئی کے والد سکندر جتوئی نے بھی پیسے جمع کرائے۔ زین ملک کی جانب سے 2 ارب روپے کی رقم جمع کرائی گئی۔ ایف آئی اے کے ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان اکاؤنٹس کو بحریہ ٹاؤن، سمیت  دوسرے پروجیکٹس سے ملنے والے کک بیکس لینے کے لیے استعمال کیا گیا۔

اس معاملہ کا چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی نوٹس لے لیا۔ ڈی جی ایف آئی اے سے اپنے چیمبر میں ملاقات کی اور تفصیلات لیں۔ چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے کو اتوار کی صبح 10بجے پھر بلا لیا۔ انور مجید متعدد نوٹسز کے باوجود پیش نہیں ہوئے۔ ان اکاؤنٹس کو کراچی کی بڑی ہاؤسنگ سکیم سے ملنے والے کک بیکس کے لیے استعمال کیا گیا۔ جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت 8جولائی کو ہو گی۔

 

احمد علی کیف  2 سال پہلے

متعلقہ خبریں