افغانستان میں طالبان کا زور ختم ہونے کے باوجود لڑکیاں سکول نہیں جاتیں، رپورٹ

ویب ڈیسک: افغانستان میں طالبان کا زور ختم ہونے کے باوجود بھی لڑکیاں سکول نہیں جاتیں، الجزیرہ کی رپورٹ سامنے آتے ہی سب واضح ہو گیا۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کے مطابق طالبان کا زور ختم ہونے کے 16 برس بعد بھی افغانستان میں 3 میں سے 1 لڑکی سکول جاتی ہے۔ رپورٹ میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ افغانستان کی 60 فیصد لڑکیاں سکول جانے سے قاصر ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ افغانستان میں ہونے والے پر تشدد واقعات ہیں جن کے ڈر سے والدین اپنی بچیوں کو سکول نہیں بھیجتے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پر تشدد واقعات کے باعث جو تھوڑے بہت سکول رہ گئے تھے وہ بھی بند کر دیئے گئے ہیں۔ جس کے باعث اب لڑکیوں کے سکول جانے کے امکانات مزید کم ہو چکے ہیں۔ اب تک لاکھوں لڑکیوں نے سکول میں قدم تک نہیں رکھا۔ علاوہ ازیں سکول نہ جانے والی 85 فیصد لڑکیوں کا تعلق ان علاقوں سے ہے جہاں  پرتشدد واقعات ہونے کی وجہ سے بدنام ہو چکے ہیں۔ جن میں قندھار، ہلمند، پتیکا، زابل، وردک اور ارزگن شامل ہیں۔

افغانستان میں یونیسف کی ترجمان ایڈیل کھودر کا کہنا تھا کہ بچیوں کے سکول نہ جانے کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بندوق کے زور پر اتنا ڈرا دیا جاتا ہے کہ وہ خود انکار کر دیتے ہیں اور مسلح گروپ میں جبراً ان بچوں کو شامل کیا جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تعلیم انسان کی زندگی میں ٹھہراؤ لاتی ہے۔ ایک مہذب انسان بناتی ہے۔ لہٰذا اس طرح کے پر تشدد معاشرہ کے لیے تعلیم بہت ضروری ہے۔

احمد علی کیف  5 ماه پہلے

متعلقہ خبریں