عاطف میاں سے شروع ہونیوالے اقتصادی مشاورتی کونسل کے مسائل حل نہ ہو سکے

اسلام آباد (پبلک نیوز) حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ اقتصادی مشاورتی کونسل اپنے قیام کے بعد سے ہی مشکلات کا شکار ہے۔ عاطف میاں کی تقرری اور استعفیٰ کے بعد شروع ہونے والے مسائل ابھی تک حل نہیں ہوسکے۔

4 ممبران کے استعفوں کے بعد اب اس کونسل کے ممبران کی تعداد 18 سے گھٹ کر 14 رہ گئی ہے۔ آخری استعفیٰ معروف ماہر اقتصادیات ثاقب شیرانی کا تھا جنہوں نے چند روز قبل ذاتی وجوہات کے عذر کے ساتھ استعفیٰ دیا۔ ثاقب شیرانی ریوینو اور اکنامکس پر مشاورت فراہم کررہے تھے۔

اسی کونسل سے متعلقہ تازہ معاملہ ممبران کی جانب سے وزارت خزانہ کے حکام کے رویہ کے خلاف احتجاج کا سامنے آیا ہے۔ ممبران نے آج یعنی جمعرات کو طلب کردہ اجلاس کی اطلاع کم وقت قبل دینے پر احتجاج کیا تھا جس کے بعد اجلاس ملتوی کردیا گیا۔

اجلاس کا مقصد وسط مدتی سٹریٹجی پیپر کو عام کرنے سے قبل اس پر کونسل کی رائے حاصل کرنا تھا۔ وزیرخزانہ اسد عمر نے اسمبلی میں تقریر کے دوران یہ دستاویزات اسی ہفتہ میں پبلک کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اجلاس ملتوی ہونے کے بعد اس پیپر کے اجرا میں بھی تاخیر ہوگی۔

متوقع ہے کہ اگلے ہفتے ہونے والی میٹنگ کی صدارت وزیراعظم عمران خان کریں گے، اگلے ہفتے ہونے والی میٹنگ میں بھی تمام ممبران نے شرکت کا عندیہ نہیں دیا۔

وزارت کے حکام تمام ممبران کو شرکت پر قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ اگر وزیراعظم میٹنگ میں شرکت کریں تو کونسل کے تمام ممبران اجلاس میں شریک ہوں۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں