پلوامہ حملہ، بھارتی دھمکیاں، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان کی سفارتی کوششیں

پلوامہ واقعہ پر بھارت کی دھمکیاں خطے میں کشیدگی کو فروغ دینے لگی۔ بھارتی رویئے پر پاکستان نے اقوام متحدہ میں سفارتی کوششیں تیز کردیں۔ ٹرمپ نے کہا اچھا ہو، اگر پاکستان اور بھارت خود تعلقات بہترکرلیں۔

تفصیلات کے مطابق پلوامہ واقعے پر بھارت سے کشیدگی کے پیش نظر پاکستان نے اقوام متحدہ میں سفارتی کوششیں تیز کردیں۔

اقوام متحدہ میں مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے یو این سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس اور سلامتی کونسل کے صدر سے ملاقاتیں کیں۔ انہیں بھارت کی دھمکیوں اور وزیراعظم پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کیا۔ ملیحہ لودھی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کی جانب توجہ بھی دلائی۔

مطالبہ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے اقوام متحدہ کردار ادا کرے۔ ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ بھارتی جارحانہ رویہ خطے کو مزید غیر مستحکم کررہا ہے، ضرورت پڑی تو پاکستان بھارتی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دے گا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی یواین سیکرٹری جنرل کو خط لکھ کر مداخلت کی اپیل کی تھی۔ جس پر انوونیو گوٹیریس کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت راضی ہوں تو اقوام متحدہ کشیدگی ختم کرنے کے لیے ثالثی کرانے پر تیار ہے۔

ادھر برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے بھی وزیراعظم ملاقات کی، اور حکومت کے کشمیر پر موقف کو سراہا، جبکہ شیخ رشید نے بھی اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ اگر بھارت نے موسیقی چھیڑی تو پورا راگ سنائیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی پلوامہ واقعہ پر بیان سامنے آ گیا۔ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت ایک ساتھ چلتے ہیں تو جنوبی ایشیا کے دونوں ہمسایہ ممالک کے لیے بہت اچھا ہوگا۔ پلوامہ حملہ خطرناک ہے۔ مناسب وقت پر ردعمل دیا جائے گا۔

احمد علی کیف  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں