10 جولائی: احمد ندیم قاسمی کی تیرھویں برسی

 

اردو ادب کی ہمہ جہت شخصیت اور زندگی کی تلخیوں کو لفظوں کا پیرہن دینے والے احمد ندیم قاسمی کی آج تیرھویں برسی منائی جا رہی ہے۔

         

احمد ندیم قاسمی20 نومبر 1916 کو خوشاب میں پیدا ہوئے۔ اصل نام احمد شاہ تھا۔ اور ندیم تخلص تھا۔ 1939 میں مختصر کہانیوں کا پہلا مجموعہ چوپال شائع ہوا۔ انھوں نے 1942 میں تہذیبِ نسواں اور پھول کی ادارت سنبھالی۔ سن 1943 میں ادب لطیف کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ اور انھوں نے  ہاجرہ مسرور سے مل کر نقوش کی ادارت بھی سنبھالی۔

 

 

 پی ٹی وی کیلئے احمد ندیم قاسمی نے قاسمی کہانی، گھر سے گھر تک سمیت متعدد معروف ڈرامے تحریر کیے۔ احمد ندیم قاسمی جو شاعر، افسانہ نگار، کالم نگار اور صحافی بھی تھے۔ انھوں نے پچاس سے زائد کتابیں تحریر کیں اور شاعری کے بارہ مجموعے منظرِ عام پر آئے۔ اس نامور شاعر نے فرد کی ذات کی کیفیات کے ساتھ معاشرتی ناہمواریوں اور مسائل کو بھی اپنا موضوع بنایا۔

 

ریت سے بت نہ بنا اے مِرے اچھے فنکار

ایک لمحے کو ٹھہر میں تجھے پتھر لا دوں

میں تیرے سامنے انبار لگا دوں

لیکن کون سے رنگ کا پتھر تیرے کام آئے گا

 

اردو ادب کے لئے خدمات پر1968 میں احمد ندیم قاسمی کو تمغۂ حسنِ کاکردگی اور 1980 میں ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔

 

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا

میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں