70فیصد حج کے اخراجات سعودیہ میں آتے ہیں جن پر ہمارا کنٹرول نہیں:علی محمد خان

اسلام آباد(جمشید خان) سینیٹ اجلاس میں کورم ٹوٹ گیا، حکومت کی سبکی، اپوزیشن کا وزراء کی غیر حاضری پر واک آؤٹ، حج اخراجات میں اضافہ بھی حکومت پر تنقید کا باعث بنا رہا، ارکان سینیٹ نے حج اخراجات میں اضافہ کو حاجیوں پر ڈرون حملہ اور انہیں حج سے روکنے کی کوشش قراردے دیا۔

 

سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہوا، سینیٹر مشتاق احمد نے حج اخراجات میں اضافے پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی پہلی حج پالیسی پریشان اور مایوس کن ہے۔ کابِینہ کی جانب سے حج پالیسی پر سبسڈی نہیں دی گئی۔ رواں برس حج اخراجات میں ایک لاکھ چہتر ہزار اضافہ کیا گیا ہے۔

 

سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ رواں برس قربانی کے اخراجات ملا کر چار لاکھ چھپن ہزار حج اخراجات آئیں گے۔ وزارت مذہبی امور نے پینتالیس ہزار روپے کی سبسڈی کی درخواست کی تھی جو مسترد کر دی گئی۔ انہوں نے کہا گزشتہ حکومت کے دور میں حج اخراجات دولاکھ اسی ہزار روپے تھے جن میں ساٹھ فیصد اضافہ سے مدینہ کی ریاست کے دعویدار لوگوں کو مکہ اور مدینہ جانے سے روک رہے ہیں۔ حکومت حج کو مہنگا کر کے حاجیوں کی بد دعائیں نہ لے حج اخراجات پر سبسڈی دی جائے اور حج اخراجات کو دو لاکھ اسی ہزار روپے تک ہی رکھا جائے۔

 

وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے حج اخراجات میں اضافہ پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حج کے ستر فیصد اخراجات سعودی عرب میں پہلے ادا کیے جاتے ہیں جن پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں۔ سعودی عرب نے سفر، رہائش اور کھانے پینے کے اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔ مسلم لیگ ن نے انتخابات کے سال میں دو ہزار سترہ کے حج اخراجات کو برقرار رکھا تھا۔ اب حج اخراجات میں اضافہ کو یہ رنگ دینا درست نہیں کہ حاجیوں کو حج سے روکا جا رہا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ حج سے پہلے حاجیوں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں