علی رضا عابدی ایم کیو ایم سے دل برداشتہ تھا: والد

کراچی (پبلک نیوز) علی رضا عابدی کے والد اخلاق عابدی نے کہا ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ان لڑکوں کو بھاگتے دیکھا۔ 22-24 سال کے دو لڑکے تھے۔ اگر شہر میں مزید کلنگ ہوئی تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی نیا منظر نامہ تشکیل دیا جارہا ہے۔

علی رضا عابدی کے والد اخلاق عابدی کا غیر رسمی گفتگو میں کہنا تھا کہ  میں نے اپنی آنکھوں سے ان لڑکوں کو بھاگتے دیکھا۔ 22-24 سال کے دو لڑکے تھے۔ میں گھر میں تھا فائر کی آواز سن کر بھاگا، علی کو لیکر پی این ایس شفا گیا وہ انہوں نے آپریشن تھیٹر لے گئے۔ لیکن گردن کی گولی اس کو نہ بچا سکی۔

نجی کمپنی کے گارڈز تھے جو ہمارے گھر کام کرتے تھے۔ اگر شہر میں مزید کلنگ ہوئی تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی نیا منظر نامہ تشکیل دیا جارہا ہے۔ ان کو فالو کیا گیا مگر وہ ماہر قاتل تھے۔ علی رضا کو روڈ پر روکنا مشکل تھا، علی بہترین ڈرائیور تھا۔

گارڈ کی رائفل چلی نہیں تو وہ دوسری رائفل لینے کے لیے گھر کے اندر بھاگا تھا۔ اگر دروازہ جلدی کھل جاتا تو علی رضا بچ سکتا تھا۔ علی رضا عابدی کی آصف ذرداری سے ملاقات ہوئی تھی کیونکہ وہ ایم کیو ایم سے دل برداشتہ تھا۔

 

لوگوں کا اس کو مشورہ تھا کہہ وہ سیاست نہ چھوڑے۔ علی کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی قوم کے لیے ہمیشہ سیاست کی ہے اب آئیڈیالوجی تبدیل نہیں کرسکتا۔

لیکن اسکا کہنا تھا کہ میں کچھ کرنا چاہتا ہو شہر کے لیے۔ اور وہ ایم کیو ایم کے انضمام کے لیے جدوجہد کررہا تھا۔

ضمنی الیکشن میں دوبارہ گلشن سے ٹکٹ نہ ملنا اس کے ساتھ ذیادتی تھی۔ علی رضا عابدی پہلے بھی اپنے حلقے سے جیتا تھا اور دوبارہ بھی جیتا پر ایم کیو ایم نے اس کے بجائے چشتی کو ٹکٹ دیا۔

حارث افضل  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں