اپوزیشن جماعتیں متحد، چیئرمین سینیٹ کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ

اسلام آباد (جمشید خان) پارلیمنٹ کے ایوانوں میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے اپوزیشن جماعتیں متحد ہوگئیں، ن لیگ اور پی پی پی نے جوڑ توڑ کے نتیجے میں چئیرمین بننے والے صادق سنجرانی کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

 

عام انتخابات سے قبل سینیٹ انتخابات میں نظریں جب سندھ اور پنجاب پر تھی تو پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری نے بلوچستان میں جوڑ توڑ کا ایسا پہیہ گھمایا کہ جس کے اثرات چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر بھی پڑے، پہلے درپردہ اور پھر کھلم کھلا پیپلز پارٹی نے صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ بنانے کی حمایت کی۔

 

اپوزیشن مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اب جبکہ کرپشن مقدمات کے باعث دباؤ میں ہیں تو دونوں کے قائدین کے درمیان ملاقاتوں کے بعد چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ دیکھا جائے تو متحدہ اپوزیشن کے اراکین مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، جے یو آئی ف پر مشتمل ہے جن کو این پی، اے این پی اور پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کی حمایت حاصل ہے اور ان کی تعداد اکیاون بنتی ہے۔

 

ایوان بالا میں آزاد اراکین کی تعداد انتیس ہے جبکہ پی ٹی آئی کے اپنے اراکین کی تعداد چودہ ہے اور حمایتی اراکین کو ملا کر یہ تعداد بائیس بنتی ہے۔ لیکن چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے قوائد کے مطابق ایوان میں موجود اراکین کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔

 

سینیٹ کے قوائد و ضوابط کے مطابق ایک چوتھائی اراکین سینیٹ ایک قرارداد چیئرمین سینیٹ کے خلاف سیکرٹری سینیٹ کو دینگے جس کے بعد قرارداد سینیٹ کے ایجنڈے میں شامل کی جائے گی۔ چیئرمین سینیٹ کے خلاف قرارداد کی صورت میں اجلاس کی صدارت چیئرمین سینیٹ نہیں کرے گا۔ قرارداد پر پہلے بحث کی جائے گی اور پھر قرارداد پر خفیہ رائے شماری کی جائے گی۔ قوائد کے مطابق قرارداد کے حق میں ایوان میں موجود اراکین کی سادہ اکثریت کی حمایت کی صورت میں چیئرمین سینیٹ کو ہٹا دیا جائے گا۔ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے اراکین کی دو تہائی اکثریت ضروری نہیں ہوتی ہے۔

حارث افضل  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں