امریکہ طالبان مذاکرات کی میزبانی پاکستان کر سکتا ہے، ذرائع

اسلام آباد (مظہر اقبال) سعودی عرب نہ قطر، امریکہ طالبان مذاکرات کی میزبانی پاکستان کر سکتا ہے۔ امریکہ اور طالبان ابھی تک بات چیت کے بنیادی نکتے پر متفق نہیں ہو سکے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے پاکستان آتے ہی مقتدر حلقوں سے طالبان کیساتھ براہ راست رابطہ کروانے کی استدعا کی۔ سفارتی تنازعہ کے باعث دوحہ سعودی عرب کیلئے قابل قبول نہیں ہے۔ طالبان امریکی انخلا کے ٹائم فریم سے پہلے باضابطہ مذاکرات نہیں کرنا چاہتے۔

امریکہ کی جانب سے پیغام دیا گیا کہ امریکہ طالبان کے ساتھ افغانستان میں پاور شئیرنگ فارمولے پر مذاکرات کا خواہاں ہے۔ طالبان اتنا بے لچک مؤقف نہ اپنائیں۔ امریکہ اور پاکستان کی رضامندی کے باوجود آج طالبان نے زلمے خلیل زاد سے رابطہ نہیں کیا۔

طالبان ذرائع کے مطابق وسیع البنیاد مذاکرات صرف فوجی انخلاء کے ٹائم فریم سے مشروط ہیں۔ طالبان کا خیال ہے کہ وہ افغانستان میں تنہا حکومت سازی کی پوزیشن میں ہیں۔ طالبان ابھی تک مشاورتی عمل میں مصروف ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ زلمے خلیل زاد ہر حال میں طالبان سے براہ راست بات چیت کے خواہاں ہیں۔ زلمے خلیل زاد نے پاکستان میں 21 جنوری تک قیام بڑھانے کی پیشکش کر رکھی ہے۔ کل بھی قطر سے طالبان کا وفد نہ آیا تو پاکستان میں طالبان کا نمائندہ رابطہ کر سکتا ہے۔

احمد علی کیف  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں