امریکی فوج کا پاکستان کی 30 کروڑ ڈالر امداد منسوخ کرنے کا حتمی فیصلہ

واشنگٹن(پبلک نیوز) امریکی فوج نے پاکستان کی تیس کروڑ ڈالر امداد روکنے کا فیصلہ کر لیا۔ امریکی فوج کے مطابق انھوں نے پاکستان کی جانب سے شدت پسند عسکری گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائیاں نہ کرنے پر 30 امریکی کروڑ کی امداد منسوخ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔


پینٹاگون کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل کونی فاکنر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع اب یہ رقم دیگر فوری ترجیحات پر صرف کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ترجمان پیٹاگون نے کہا کہ امریکا پاکستان پر دہشت گرد گروہوں بشمول حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ ڈالتا رہے گا۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنا رویہ تبدیل کر لے تو یہ امداد بحال کی جا سکتی ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل کونی فاکنر نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ساؤتھ ایشیا سٹریٹیجی کے تحت فیصلہ کن کارروائیوں کے فقدان کے باعث بقیہ 30 کروڑ ڈالر کو ری پروگرام کیا گیا ہے۔


لیفٹیننٹ کرنل فاکنر کا کہنا تھا کہ کانگریس نے پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈز کے 50 کروڑ ڈالر رواں سال کے آغاز میں بھی روک لیے تھے، جس سے بعد اب روک لی جانے والی کل رقم 80 کروڑ ڈالر ہوجائے گی۔ ساؤتھ ایشیا پروگرام کے ڈائریکٹر سمیر للوالی کا کہنا ہے کہ امریکا کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان کی معیشت لڑکھڑا رہی ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے رجوع کر سکتا ہے جس کے ووٹوں کا سب سے بڑا حصہ امریکا کے پاس ہے۔


امریکا کو شاید اس بات کا غصہ ہے کہ موجود وزیراعظم عمران خان نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ ان کے دور اقتدار میں امریکی ڈرونز نے پاکستانی حدود میں حملہ کیا تو اسے مار گرانے کا حکم دیں گے۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد پہلے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ ایسے تعلقات چاہتے ہیں جس میں دونوں ممالک کا فائدہ ہو۔ امریکا کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو اور اعلیٰ امریکی فوجی افسر جنرل جوزف ڈنفورڈ اسلام آباد کا دورہ کرنے والے ہیں۔

عطاء سبحانی  1 سال پہلے

متعلقہ خبریں