فیس بک کو تاریخ کا سب سے بڑا جرمانہ ہونے کو ہے

 

پبلک نیوز: صارفین کی پرائیویسی کا خیال نہ رکھنے پر امریکن فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے فیس بک کو 5 ارب ڈالر جرمانے کی سفارش کر دی ہے۔ فیس بک پر 8 کروڑ 70 لاکھ صارفین کا ڈیٹا برطانوی فرم کیمرج اینالیٹیکا کو دینے کا الزام تھا۔ فیس بک جرمانے کا حتمی فیصلہ محکمہ انصاف کرے گا۔

 

امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے صارفین کی پرائیویسی کی خلاف ورزی پر تاریخ کے سب سے بڑے 5 ارب ڈالر جرمانے کی منظوری دے دی۔ فیڈرل ٹریڈ کمیشن مارچ 2018 سے سیاسی کنسلٹنسی فرم کیمبرج اینالیٹکا کی جانب سے آٹھ کروڑ ستر لاکھ فیس بک صارفین کے ڈیٹا کے غیرقانونی استعمال پر تحقیقات کر رہا تھا۔

 

تفتیش میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ نے کیمبرج اینالیٹکا کو صارفین کی معلومات فراہم کیں یا وہاں تک رسائی دی۔ فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے دو کے مقابلے میں تین ووٹوں سے فیس بک پر جرمانے کی منظوری دی ہے۔

 

کیمبرج اینالیٹکا ایک برطانوی فرم ہے۔ جس پر فیس بک صارفین کی معلومات ڈونلڈ ٹرمپ کی مارکیٹنگ ٹیم کو 12لاکھ ڈالرز میں فروخت کرنے کا الزام ہے۔ ٹرمپ کی ٹیم نے مبینہ طور پر اس معلومات کو امریکہ کے گزشتہ الیکشن میں استعمال کیا تھا۔

 

فیس بک جرمانے کا حتمی فیصلہ محکمہ انصاف ہی کرے گا۔ جس کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہاں گیا کوئی بھی معاملہ بغیر فیصلے کے رد نہیں ہوتا۔ فیصلہ اگر فیس بک کے خلاف آتا ہے تو یہ کسی بھی ٹیکنالوجی کمپنی پر امریکی محکمہ انصاف کا سب سے بھاری جرمانہ ہوگا۔

 

 

واضح رہے کہ  اس سے قبل 2012 میں دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کو دو کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا جرمانہ کیا گیا تھا۔۔

احمد علی کیف  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں