آوے کا آوا ہی بگڑا ہو ا ہے!

محمد اکبر باجوہ

شریف خاندان کے سربراہ نواز شریف پر کرپشن ثابت ہوچکی اور جیل کی ہوا کھا رہے ہیں۔ مریم نواز والد کی جائیداد چھپانے کے جرم میں سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ کیپٹن (ر) صفدر ارتکابِ جرم میں معاونت پر قید ہیں۔ خاندان کے باقی اہم افراد پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں۔ شریف خاندان کی کرپشن کی روداد سنا اور دکھا رہے ہیں ۔

آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ یہ محاورہ شریف خاندان پر صادق آتا ہے۔ کوئی کرپشن ثابت ہونے پر سزابھگت رہا ہے تو کسی کے خلاف کرپشن کی  تحقیقات ہو رہی ہیں۔ سب سے پہلے تذکرہ ہو جائے شریف خاندان کے سربراہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کا۔ نواز شریف کو کرپشن پر نیب کے 3 ریفرنسز کا سامنا ہے۔

پہلا ریفرنس ہے ایون فیلڈ پراپرٹیز، دوسرا العزیزیہ سٹیل ملز اور تیسرا 15 آف شور کمپنیز فلیگ شپ انویسٹمنٹ۔ موصوف پر ایون فیلڈ ریفرنس میں کرپشن ثابت ہو چکی۔ احتساب عدالت نے فیصلہ سنایا کہ نواز شریف کے اثاثے ان کے ذرائع آمدن سے زیادہ ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اپنی اولاد کی نو عمری میں جائیدادوں کے ذمہ دار نواز شریف ہیں۔ کرپشن ثابت ہونے پر نواز شریف 10 سال قیدِ با مشقت بھگت رہے ہیں۔ جبکہ دو  ریفرنسز کا فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔

اب بات نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی۔ موصوفہ پر جعلی  ٹرسٹ ڈیڈ بنانے کا الزام ثابت ہو چکا ہے۔ عدالتی فیصلہ کے مطابق مریم نواز، والد کی جائیدادیں چھپانے کے لیے آلہ کار بنیں۔ کرپشن میں معاونت کے اس جرم کی پاداش میں مریم نواز بھی 7 برس کے لیے اڈیالہ جیل کی مکین ہو چکی ہیں۔

 اور اب نواز شریف کی بیٹی کے بعد ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز کا تذکرہ، نواز شریف کے دونوں فرزندانِ ارجمند پر بھی تین نیب ریفرنسز ہیں۔ مگر دونوں برادران ایک  بار بھی  عدالت کے روبر پیش نہیں ہوئے۔ دونوں کو اشتہاری قرار دے کر دائمی ناقابلِ ضارنت وارنٹس جاری ہو چکے ہیں۔  بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ دونوں بھائیوں کا نام بلیک  لسٹ میں شامل کر کے  پاسپورٹس منسوخ کر دیئے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ نیب انہیں انٹرپول کے ذریعے پاکستان لانے کے لیے متحرک ہے۔ یہ بھی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ جلد ہی حسن اور حسین کا نام ای سی ایل میں ڈالے جانے کا امکان بھی ہے ۔

نواز شریف کے بچوں کے بعد  اب بات ان کے داماد  اور مریم نواز کے خاوند کیپٹن (ر) صفدر کی۔ کیپٹن (ر) صفدر نے جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پر بطورِ گواہ دستخط کیے تھے ۔ یوں ارتکابِ کرپشن میں معاونت پر کیپٹن (ر) صفدر ایک برس کے لیے اڈیالہ جیل کی ہوا کھا رہے ہیں۔

نواز شریف کے داماد کے تذکرہ کے بعد اب باری ہے ان کے سمدھی اسحاق ڈار کی کرپشن کی۔ اسحاق ڈار پر بھی آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس میں فردِ جرم عائد ہو چکی ہے۔ سابق وزیرِ خزانہ منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات کی زد میں بھی ہیں۔ مگر موصوف ناسازی طبع کا بہانہ بنا کر لندن میں مقیم ہیں۔ عدالت انہیں اشتہاری قرار دے چکی ہے جبکہ ان کی انٹرپول کے ذریعہ  واپسی کے لیے ریڈ وارنٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ جناب کا نام بلیک لسٹ میں ڈال کر پاسپورٹ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ نیب کرپشن ریفرنس کے علاوہ بھی اسحاق ڈار کئی کیسز میں عدالت کو مطلوب ہیں۔

اردو کی مثال ہے کہ باپ پہ پوت پتا پہ گھوڑا۔ بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا۔ اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار پر یہ مثال صادق آتی ہے۔ علی ڈار نواز شریف کے داماد بھی ہیں۔ ان پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں۔

اب آتے ہیں شہباز شریف کے خلاف ہونے والی کرپشن تحقیقات کی جانب۔ سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف پنجاب 56 کمپنیوں میں اربوں روپے اڑا دینے کے الزامات ہیں۔ اس حوالے سے وہ سپریم کورٹ اورنیب میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سابق خادمِ اعلیٰ پر ملتان میٹرو میں کرپشن کے بھی الزامات ہیں۔ جبکہ حدیبیہ پیپر ملز کیس کی نظرِ ثانی پٹیشن بھی عدالتِ عالیہ میں دائر کی جا چکی ہے۔

شہباز شریف کے فرزند حمزہ شہباز کے خلاف بھی صاف پانی کیس میں کرپشن کے الزامات ہیں۔ نیب ان کے خلاف انکوائری کر رہی ہے۔ اس سلسلہ میں حمزہ شہباز نیب آفس لاہور کی یاترا بھی کر چکے ہیں۔

جاتے جاتے بات کر لیتے ہیں شہباز شریف کے داماد علی عمران کی مبینہ کرپشن کی۔ علی عمران آج کل ملک سے باہر ہیں۔ نیب ان کے خلاف پاور کمپنی کیس میں کرپشن پر تحقیقات کر رہا ہے۔

نیب کے کئی بار طلب کرنے پر  بھی علی عمران پیش  نہ ہوئے۔ ان کو نہ صرف اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے بلکہ انکی جائداد کی قرقی کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ انہیں وطن واپس لانے کے لیے انٹر پول سے بھی رجوع کیا جائے گا

1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں