شریف فیملی کی کرپشن کی ایک اور داستان منظر عام پر آگئی

لاہور (شاکر محمود اعوان) شریف فیملی کی کرپشن کی ایک اور داستان منظر عام پر آگئی۔ رمضان شوگر مل کے ساتھ ساتھ شریف ڈیری فارمز کا فضلہ بھی بھوانہ نالے میں ڈالا جاتا رہا، حمزہ شہباز نے سارا ملبہ ملازمین پر ڈال دیا۔

تفصیلات کے مطابق نیب لاہور نے رمضان شوگر مل ریفرنس میں مزید شواہد حاصل کر لیے۔ نیب ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ حمزہ شہباز نے اپنے والد کے ذریعہ ٹھیکہ منظور کرایا۔ چیف ایگزیکٹو ہونے کے ناطہ حمزہ شہباز کی ذمہ داری تھی کہ وہ فضلہ کو ٹھکانے لگانے کے لیے مناسب انتظام کرتے۔ ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ حمزہ شہباز نیب کی تفتیشی ٹیم کو مطمئن نہیں کر سکے۔

نیب کی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے سوال کیا کیا کہ آپ تسلیم کرتے ہیں فضلہ کو ٹھکانے لگانے کی ذمہ داری فیکٹری کی ہوتی ہے۔ فیکٹری بناتے وقت پانی کے اخراج کے لیے ای پی اے اور اریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے قوانین کو فالو کیا۔ رمضان شوگر مل اور شریف ڈیری فارمز نالہ بننے سے قبل فضلہ کہاں ٹھکانے لگاتے تھے۔

حمزہ شہباز نے جواب دیا کہ فیکٹری کے ٹیکنیکل معاملات ایڈمنسٹریشن اورمتعلہ افراد دیکھتے تھے۔ آپ کے زیادہ تر سوالات ماحولیاتی قوانین سے متعلق ہیں جو نیب کی حدود میں نہیں آتے۔ حمزہ شہباز نے نیب الزامات مسترد کرتے ہوئے 30 سالہ ریکارڈ سے متعلق جوابات کے لیے مہلت مانگ لی۔

احمد علی کیف  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں