ساہیوال مبینہ مقابلے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سی ٹی ڈی کی نئی وضاحت

لاہور(مرزا رمضان بیگ) سی ٹی ڈی کے بدلتے بیانات معاملے کو مزید الجھا کر رکھ دیا، نئی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد جھوٹ کے پول کھلتے جا رہے ہیں۔

 

آج بیان جاری کیا گیا کہ صرف گاڑی کا ڈرائیور ذیشان خطرناک دہشتگرد تھا۔ خلیل اور اس کی فیملی ذیشان کے ارادوں سے لاعلم تھی۔ ذیشان کی گاڑی کو سیف سٹی کیمروں سے مانیٹر کیا گیا، گاڑی کے ساتھ موٹر سائیکل سوار دو مبینہ دہشت گرد "کور" دے رہے تھے۔ کل بیان دیا گیا کہ گاڑی میں بیٹھے دہشتگردوں نے گولیاں چلائیں۔

 

آج بیان آیا کہ دہشتگرد کو "کور" دینے والے موٹرسائیکل سواروں نے گولیاں چلائیں۔ جب گاڑی میں بیٹھے افراد نے گولیاں چلائی ہی نہیں تو انہیں کیوں مارا گیا؟ بچے کے بیان کے مطابق بچے کے والد نے اہلکاروں سے بات چیت بھی کی۔ کہا کہ پیسے لے لو، گولی مت مار۔

دوسری بار کہا گیاکہ سیاہ شیشوں کی وجہ سے پچھلی سیٹوں پر بیٹھے افراد بدقسمتی سے مارے گئے۔ فوٹیج میں دکھائی دے رہا ہے کہ اہکاروں نے تسلی سے گاڑی سے سامان اور بچوں کو نکالنے کے بعد دوبارہ گولیاں چلائیں۔ کیا تب بھی نہیں معلوم تھا کہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی خواتین کو بھی گولیاں لگی ہیں؟

 

پھر فائرنگ کے بعد سی ٹی ڈی اہلکار فرار کیوں ہو گئے؟ جائے وقوعہ سے خودکش جیکٹ اور دیگربارودی مواد قبضے میں لینے کادعویٰ کیا۔ ایسا کچھ تھا تو وہ اب تک میڈیا میں کیوں نہیں لایا گیا؟عینی شاہدین نے ایسا کچھ کیوں نہ نظر آیا؟ ایسے کئی سوالات ہیں جو پبلک ارباب اختیار سے جاننا چاہتی ہے۔

متعلقہ خبر:ساہیوال میں سی ٹی ڈی کا مشکوک مقابلہ، تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل

دوسری جانب ساہیوال واقعہ پر بنائی گئی جے آئی ٹی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا ہے۔ عینی شاہدین کے بیانات بھی قلمبند کیے اور ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں جے آئی ٹی ممبرز اہلکاروں کے بیان سے مطمئن نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ سی ٹی ڈی کے بیانات میں تضاد ہے۔

عطاء سبحانی  7 ماه پہلے

متعلقہ خبریں