انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مشال قتل کیس کا اہم فیصلہ سنا دیا

پشاور(پبلک نیوز) عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں قتل ہونے والے مشال قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے مشال قتل کیس کے 4 ملزمان کا فیصلہ سناتے ہوئے تحریک انصاف کے سابق تحصیل کونسلر عارف خان سمیت دو کو عمر قید اور دو کو بری کر دیا۔

 

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مشال قتل کیس کی سماعت ہوئی، کیس میں پی ٹی آئی کونسلر عارف اوراسد کاٹلنگ کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں قتل ہونے والے مشال قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے قتل کیس میں تحریک انصاف پاکستان سے تعلق رکھنے والے تحصیل کونسلر عارف خان اور اسد کاٹلنگ کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ جبکہ ملزم صابر مایار اور اظہار جونی کو بھی بری کر دیا۔

 

مشال قتل کیس میں مجموعی طور پر 61 ملزموں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ مرکزی ملزم عمران کو دوبار سزائے موت، پانچ کو 25 سال قید جبکہ 25 ملزمان چار سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ کیس میں 26 ملزموں کو رہا کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ چار سال قید کی سزا پانے والے ملزموں کو پشاور ہائی کورٹ ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

 

واضع رہے کہ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں 13 اپریل 2017ء کو جرنلزم کے 23سالہ طالب علم مشال خان کو مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کا الزام لگا کر قتل کر دیا تھا۔ ایبٹ آباد میں انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج فضل سبحان نے 27 جنوری 2018ء کو کیس کا فیصلہ سنایا۔

 

عدالت نے فیصلہ میں ایک مجرم کو سزائے موت، 5 کو عمر قید اور دیگر 26 ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے 12 مارچ کو مشال قتل کیس کے 4 ملزمان سے متعلق فیصلہ محفوظ کیا تھا، کیس کے دوران مشال خان کے والد اور 46 گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے تھے۔

عطاء سبحانی  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں