انتخابات 2018ء، ملک میں سکیورٹی صورتحال قابل تسلی بخش قرار

اسلام آباد (پبلک نیوز) انتخابات 2018ء کی آمد آمد ہے، بھاگتے دہشت گردوں نے پشاور میں بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے اے این پی رہنماء ہارون بلور سمیت 20 افراد کو شہید کر دیا ہے۔ اس مذموم حملہ کے باوجود انتخابات 2018 سے قبل سیکورٹی صورتحال 2013 کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔
انتخابات کسی بھی ملک کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ پشاور میں امن دشمنوں کی دہشت گردانہ کارروائی کے باوجود ملک میں انتخابات 2018ء سے قبل سیکورٹی صورتحال تسلی بخش ہے۔ انتخابات 2013ء کی بات کی جائے تو ان سے قبل امن عامہ کی صورتحال نہایت نا گفتہ بہہ تھی۔ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی انتخابی مہم چلانے سے قاصر تھیں۔ 28 اپریل 2013 کو دہشت گردوں نے خیبر پختونخواہ، سندھ اور بلوچستان کے مختلف شہروں کو نشانہ بنایا جن میں 12 افراد جاں بحق ہوئے۔

4 مئی 2013 کو کراچی میں ایم کیو ایم آفسز پر حملوں میں کم از کم 3 افراد جاں بحق ہوئے۔ 8 مئی کو ہنگو اور لوئر دیر میں جے یو آئی ف اور پیپلز پارٹی کے انتخابی قافلوں پر حملے میں 21 افراد لقمہ اجل بنے۔ 9مئی کو سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے فرزند علی حیدر گیلانی کو اغواء کر لیا گیا۔ اس واقعہ میں انکے سیکرٹری اور محافظ کی جان چلی گئی۔ 11مئی کو انتخابات کے روز دہشت گردانہ کارروائیوں میں 36 افراد جبکہ دیگر واقعات میں 33 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

2013 کے مقابلے میں اب امن و امان کی صورتحال تسلی بخش ہے۔ ملک سے دہشت گردوں اور دہشت گردی کا تقریباً صفایا کر دیا گیا ہے۔ ایسے میں پشاور جیسے واقعات قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ وطن عزیز انتخابات کی جانب جا رہا ہے اور پوری قوم انتخابات کے پر امن انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ انشا اللہ انتخابات کا پر امن انعقاد ممکن ہو پائے گا اور دہشت گرد وں کو منہ کی کھانا پڑے گی ۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں