فلیگ شپ ریفرنس،اضافی دستاویزات عدالتی ریکارڈ پر لانے کی درخواست منظور

اسلام آباد(پبلک نیوز)احتساب عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس میں نیب کی اضافی دستاویزات کو عدالتی ریکارڈ پر لانے کی درخواست منظور کر لی، فلیگ شپ ریفرنس کے تفتیشی افسر محمد کامران کا بیان قلمبند کر لیا گیا۔ نوازشریف کا بیان ریکارڈ کرنے سے متعلق سوالنامہ فراہم کرنے کی خواجہ حارث کی استدعا منظور، عدالت نے ابتدائی پچاس سوالات فراہم کردیئے۔

 

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت جج محمد ارشد ملک نے کی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف پیش نہ ہو سکے۔عدالت نے سابق وزیراعظم کو ایک روز کا مزید حاضری سے استثنی دے دیا۔ سماعت کے آغاز میں فلیگ شپ ریفرنس میں نیب کی جانب سے اضافی دستاویزات ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست پر نیب پراسیکیوٹر اور وکیل صفائی کی جانب سے دلائل سننے کے بعد نیب کی درخواست منظور کر لی۔

 

خواجہ حارث کی جانب سے 342 کے تحت نواز شریف کا بیان ریکارڈ کرنے کیلئے سوال نامے کی کاپی حاصل کرنے استدعا کی، جس پر نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا کہ اگر سوالنامہ پہلے فراہم کر دیا گیا تو 342 کا مقصد ختم ہو جائے گا۔ ہمارا پیشگی سوالنامہ دینے پر بڑا سنجیدہ اعتراض ہے۔ عدالت نے نیب کے اعتراض مسترد کرتے ہوئے نواز شریف کو پیشگی سوال نامہ دینے کا حکم دے دیا، جس کے بعد نواز شریف کے وکلاء کو ابتدائی 50 سوالوں پر مشتمل سوالنامہ دے دیا گیا۔

 

فلیگ شپ انویسمنٹ ریفرنس میں تفتیشی افسر محمد کامران کا بیان قلمبند کر لیا گیا۔ تفتیشی نے بتایا کہ چھبیس مارچ 2018ء کو نیب کے ظاہر شاہ یوکے سنٹرل اتھارٹی سے موصول ہونے والا ایم ایل اے کا جواب ان کے حوالے کیا گیا، دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر اور وکیل صفائی کے جھگڑا بھی پو گیا۔

 

خواجہ حارث بولے واجد ضیاء آدھا آدھا گھنٹہ ریکارڈ دیکھ کر جواب لکھواتے رہے۔ ہم نے اعتراض نہیں کیا، ہماری باری نیب کو پیٹ میں درد ہوجاتا ہے۔ کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی۔ پیر کو العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس میں نواز شریف سے 342 کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں