میران شاہ: محسن داوڑ،علی وزیر کا ساتھیوں کے ہمراہ پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ

میران شاہ(پبلک نیوز) سابقہ قبائلی علاقے میران شاہ میں محسن داوڑ اور علی وزیر نے ساتھیوں کے ہمراہ پاک فوج کی چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا۔ محسن داوڑ اور علی وزیر نے اپنے ساتھیوں کو ریاست کے خلاف اکسانے کے بعد ہتھیار اٹھا کر حملہ بھی کر دیا۔ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں متعدد شدت پسند عناصر کو حراست میں لے لیا۔

 

پاک فوج اور ریاست کے خلاف زہریلی مہم کے بعد محسن داوڑ اور اس کے ساتھی ایک اور قدم آگے نکل گئے۔ محسن داوڑ نے مسلح ساتھیوں کے ہمراہ میرانشاہ کے قریبی علاقے بویا میں پاک فوج پر حملہ کر دیا۔ چیک پوسٹوں پر فائرنگ کی گئی۔ محسن داوڑ میراں شاہ کے علاقے بویا میں موجود ہیں۔ محسن داوڑ نے پاک فوج اور ریاست کے خلاف ہرزہ سرائی کے بعد اگلا قدم اٹھاتے ہوئے ساتھیوں کو چیک پوسٹوں پر موجود فوجی جوانوں کے خلاف اکسانا شروع کر دیا۔

یہ سلسلہ گزشتہ روز ایک مشکوک شخص کی گرفتاری سے شروع ہوا، جس کی رہائی کے لیے محسن داوڑ کی جماعت نے دھرنا شروع کیا اور اشتعال انگیزی پھیلاتے ہوئے آج چیک پوسٹ پر حملہ آور ہو گئے۔ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بر وقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے پی ٹی ایم کے متعدد شدت پسند عناصر کو حراست میں لے لیا۔ کچھ عرصہ قبل پی ٹی ایم رہنما علی وزیر نے بھی ومی اداروں کو کھلے عام دھمکیاں دی تھیں کہ میں تمہیں ماروں گا۔

 

محسن داوڑ کا تعلق شمالی وزیرستان سے ہے اور وہ 2018 کے الیکشن میں آزاد حثیت میں ایم این اے منتخب ہوئے۔ محسن داوڑ پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف کئی بار بول چکے ہیں۔ اس سے قبل محسن داوڑ نے تمام اخلاقی حدیں پار کرتے ہوئے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ جغرافیہ بدلتا ہے، قومیں نہیں بدلتیں، میں افغان تھا، افغان ہوں اور افغان رہوں گا۔ ارمان لونی کی ہلاکت کے حوالے سے بھی محسن داوڑ نے پاکستان مخالف ٹوئیٹ کرنے پر افغان صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری ریاست نے ارمان لونی کے قتل کو اپنا جرم سمجھنے کے بجائے ہمارے کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں