اقتدار سنبھالا تو معیشت آئی سی یو میں تھی، اب مریض آئی سی یو سے نکل آیا ہے: اسد عمر

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ وسط مدتی اقتصادی فریم ورک بنانا ہے جس سے آئندہ تین سال میں معیشت میں بہتری آئیگی۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر ماہر معیشت سے تجاویز لی گئی ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام اپنے آخری مراحل میں ہیں۔ آئی ایم ایف کو بھی میڈیم ٹرم فریم ورک بھجوایا گیا ہے۔

 

وسط مدتی اقتصادی فریم ورک کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ وسط مدتی اقتصادی فریم ورک بنانا ہے جس سے آئندہ تین سال میں معیشت میں بہتری آئیگی۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر ماہر معیشت سے تجاویز لی گئی ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام اپنے آخری مراحل میں ہیں۔ آئی ایم ایف کو بھی میڈیم ٹرم فریم ورک بھجوایا گیا ہے۔ یہاں جہموریت کے دعوے کئے جاتے ہیں لیکن جہموریت پر یقین نہیں ہے۔

 

اسد عمر کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کو کئی مرتبہ کہا کہ معیشت کی بہتری کے لیے قائمہ کمیٹیوں میں آئیں۔ لیکن انہوں نے معیشت کی بہتری کے لیے کسی کمیٹی میں شرکت نہیں کی۔ صرف نیوز سائیکل اور الیکشن سائیکل کے لیے معیشت کے فیصلے نہیں کرسکتے۔ پاکستان اتنی برآمدات نہیں کر سکتا کہ جس سے معیشت میں بہتری آئے۔ ہم جاری کھاتوں کے خساروں اور مالیاتی خساروں میں پھنسے ہیں۔

 

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ جب اقتدار سنبھالا تو معیشت آئی سی یو میں تھی۔ اب مریض آئی سی یو سے نکل آیا ہے اور بہتری کی جانب گامزن ہے۔ جب حکومت میں آئے تو جاری کھاتوں میں خسارہ 19 ارب ڈالر سے بھی زائد تھا۔   ہم قرض سود اتارنے کے لیے لے رہے ہیں۔ پاکستان نے 800 ارب روپے قرض سود کی ادائیگی کے لیے لیا گیا۔ 2003 میں برآمدات 13 فیصد تھیں۔ گزشتہ سال برآمدات صرف 8 فیصد رہے گئی ہیں۔ بنگلہ دیش کی برآمدات 15 فیصد ہیں بھارت کی 19 فیصد برآمدات ہیں۔ پاکستان کی سیونگز صرف 15 فیصد ہیں۔ ٹیکس ریفارمز کرنے جارہے ہیں۔

حارث افضل  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں