ڈالر کا معاملہ طلب اور رسد سے جڑا ہوا ہے: اسد عمر

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ڈالر کا معاملہ طلب اور رسد سے جڑا ہوا ہے، ملک میں ڈالر کی طلب زیادہ اور دستیاب کم ہے۔ پچھلے سال 19 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا، مصنوعی طریقے سے روپے کی قدر برقرار اور ڈالر کی کم رکھی جاتی تھی۔

ڈالر کے مہنگا ہونے سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کے بعد وزیر خزانہ نے اس کی تردید کر دی ہے۔ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قدر کا معاملہ طلب اور رسد سے منسلک ہوتا ہے۔اگر ڈالر کی طلب زیادہ جبکہ دستیابی کم ہو تو یہ مہنگا ہو جاتا ہے۔ روپے کی قدر برقرار رکھنے کے لیے قرضے استعمال کیے گئے۔ اسد عمر نے اپنی وضاحت کے دوران اس امر کا بھی اظہار کیا کہ پچھلے سال 19 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا۔ مصنوعی طریقہ سے روپے کی قدر برقرار اور ڈالر کی کم رکھی جاتی تھی۔

 

وزیرخزانہ نے کہا کہ ہم نے اپنا روزگار ایکسپورٹ کر دیا۔ جس کا نقصان انڈسٹری کو ہوا۔ پاکستان کے ٹیکس دہندگان کے پیسے سے غیرملکی تاجر کو سبسڈی دی گئی۔ آئی ایم ایف پروگرام میں نہیں جاناچاہتے۔ افغانستان سمیت2سے3ممالک پاکستان سے پیچھےہیں۔ بیرونی قرضےاضافے کے بعد95ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اس وقت سرمایہ کاری کی شرح15فیصد ہے۔ مزدور بےروزگار اورفیکٹریاں بندپڑی ہیں۔ درست سمت نظر آنا شروع ہوگئی بہت کام کرنا ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سےسسٹم میں منافع خوروں کی بھرمارہے۔ تکنیکی صلاحیتوں سےمعیشت کوسہاراملےگا۔ آئل ریفائنری لگانے سے معیشت مضبوط ہوگی۔ ہماری برآمدات24ارب ڈالر ہیں۔ بدقسمتی سےافراط زرکچھ عرصہ اوپرجائےگا۔ گیس میں سبسڈی دی نان پھر بھی مہنگا ہو گیا۔

ویڈیو ملاحظہ کیجئے:

احمد علی کیف  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں