اسد عمر نے چینی، خوردنی تیل اور گھی پر ٹیکس واپس لینے کی تجویز دے دی

اسلام آباد(پبلک نیوز) سابق وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ چینی کی قیمتیں بڑھانے پر تحقیقات کی جائیں، ایسا نہیں کہ بٹن دبانے سے مسئلے حل ہو جائیں، جب تک نئی سرمایہ کاری نہیں آئے گی، اس دلدل سے نہیں نکلیں گے۔

 

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے سابق وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا کہ اپوزیشن کہتی تھی یہ کنفیوزڈ ہیں، آئی ایم ایف سے معاہدہ کیوں نہیں کرتے؟ جب معاہدہ ہوا تو کہا گیا ملک آئی ایم ایف کے حوالے کیا گیا۔ آئِی ایم ایف سے پانچ چیزوں پر مذاکرات ہوئے۔ گیس بجلی کی قیمت ایکسچینج ریٹ شرح سود اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی پر بات ہوئی، جن کی اربوں کی جائیداد باہر ہے وہ ملک کا کیا سوچیں گے۔ روپے کی قدر مصنوعی کنٹرول ماضی میں کیا گیا، ہم نے آئی ایم ایف سے کہا ایکسچینج ریٹ فری فلوٹ نہیں کریں گے، مارکیٹ فیصلے کرے گی۔

 

سابق وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمت میں ایک روپے انچاس پیسہ اضافہ ہوا، گیس کی قیمت میں 94 اضافہ کہہ رہے تھے ہم نے کم کیا، وہ کہتے تھے شرح سود میں چھ فیصد اضافہ کیا جائے، اس سے مہنگائی کی شرح 22 فیصد اضافہ ہونا تھا، آئی ایم والے کہتے تھے معیشت کی حالت بری ہے۔ سخت اقدامات کرنا ہوں گے، ہم نے جنگ لڑی عوام کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا، جو بڑی بڑی تقریریں کرتے ہیں ان کو شرم آنی چاہیئے۔ آصف زرداری نےکہا حساب کتاب اور پکڑدھکڑ کا سلسلہ بند ہونا چاہئے، سیاسی انتقام کے لیے پکڑ دھکڑ ملک اور جمہوریت کے لیے اچھی نہیں۔

سزا اور جزا کا نظام اللہ کی طرف سے ہے، کسی نے ملک کی دولت لوٹی ہے تو سزا جزا ہماری آئینی ذمہ داری ہے۔ ایک دوسرے کو دبوچنا جمہوریت نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی ہے، ملکی معیشت کو کئی برسوں سے مسائل کا سامنا ہے۔ مشکل وقت کا بجٹ ہے، بنانے والوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، مشکل حالات میں سفید پوش اور متوسط طبقے پر بوجھ کم کرنا ہو گا۔ چینی کی قیمت کیوں بڑھی؟ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ملک کے محنت کشوں کے لیے اور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، کوئی بھی حکومت ہو طاقتور طبقے کی نمائندگی ہر جگہ نظر آتی ہے۔ محنت کش طبقہ کہیں نظر نہیں آتا، ان پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔

 

نے چینی، خوردنی تیل اور گھی پر ٹیکس واپس لینے کی تجویز دے دی۔ انہوں نے کہا کہ خوردنی تیل اور گھی کی قیمتوں پر ٹیکس بھی مناسب نہیں، چھوٹی گاڑیوں پر ایف ای ڈی بڑھا دی گئی، اس پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے، کھادوں کی قیمتوں میں اضافہ فوری طور پر ختم کیا جائے۔ جی آئی ڈی سی ختم کرکے یوریا کی بوری پر 400 روپے ختم کرائیں۔ ایسا نہیں کہ بٹن دبانے سے مسئلے حل ہو جائیں، جب تک نئی سرمایہ کاری نہیں آئے گی، اس دلدل سے نہیں نکلیں گے۔

عطاء سبحانی  5 ماه پہلے

متعلقہ خبریں