اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹس جاری،گرفتاری کیلئے انٹرپول کو درخواست

اسلام آباد (پبلک نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان میں اسحاق ڈار وطن واپسی کیس کی سماعت ہوئی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مفرور اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ کو انٹر پول کے ذریعہ وطن واپس لایا جائے گا۔

پبلک نیوز کے مطابق قانون کے لمبے ہاتھ اسحاق ڈار تک پہنچ چکے۔ سابق وزیر خزانہ کے گرد گھیرا تنگ کیا جا چکا۔ سپریم کورٹ میں اسحاق ڈار وطن واپسی کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے بتایا کہ  وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے 12 جولائی کو مفرور اسحاق ڈار کے ریڈ وارنٹس جاری کر دیئے ہیں۔ لندن میں مقیم  مبینہ طور پر صاحبِ فراش اسحاق ڈار کو انٹر پول کے ذریعہ وطن واپس لایا جائے گا۔ اس سلسلہ میں انٹر پول کو درخواست دی جا چکی ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا اسحاق ڈار کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ پاسپورٹ منسوخی کا آپشن زیر غور آیا تھا۔ مگر اس لیے منسوخ نہیں کیا کہ اس کے باعث مفرور وزیرِ خزانہ کو  واپس لانے میں مشکلات پیدا ہونے کا احتمال تھا۔ پاسپورٹ حکومت پاکستان کی ملکیت ہے کسی بھی وقت منسوخ کیا جاسکتا ہے۔

جسٹس طارق مسعود کے سوال پر اٹارنی جنرل نے بتا یا کہ اسحاق ڈار کی جائیداد ضبط کی جا چکی ہے۔ چیف جسٹس کے استفسار کیا کہ اسحاق ڈار کی گرفتاری سے متعلق قانونی پراسیس دو ہفتوں میں مکمل ہو جائے گا؟ جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ امید ہے دو ہفتوں میں تمام معاملات طے پا جائیں گے۔ اس کے بعد کیس کی سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

احمد علی کیف  5 ماه پہلے

متعلقہ خبریں