آشیانہ، رمضان شوگر ملز کیس میں شہبازشریف کی درخواست ضمانت منظور

لاہور (پبلک نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے آشیانہ اور رمضان شوگر ملز کیس میں شہبازشریف کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے، جبکہ فواد حسن فواد کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں آشیانہ اور رمضان شوگر ملز کیس میں شہبازشریف کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی، جسٹس ملک شہزاد احمد کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ رمضان شوگر ملزکے علاوہ اس علاقے میں کوئی اور سکیم بنائی گئی؟ وکیل صفائی نے بتایا کہ فتح آباد، مقصود آباد و دیگر علاقوں میں ایسی ہی سکیمیں بنائی گئیں، موضع جھمب چنیوٹ میں 58 ملین سے سیوریج سکیم بنائی گئی۔

 

جسٹس مرزا وقاص رؤف نے استفسار کیا کہ فزیبلٹی کی دستاویزات لائے ہیں؟ کب بنائی گئی فزیبلٹی رپورٹ؟  جسٹس مرزا وقاص رؤف نے استفسار کیا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کی دستاویزات کے ساتھ بتائیں، وکیل شہبازشریف نے کہا کہ مڈٹرم ڈویلپمنٹ فریم ورک کے تحت نالے کی تعمیر کی گئی، نقشے کے تحت جامع آباد کے بعد وہاں آبادی نہیں تھی۔

 

وکیل شہبازشریف نے کہا کہ سارا ریکارڈ نیب کے پاس ہے کوشش ہے کچھ نہ کچھ پیش کیاجائے، عدالت نے کہا کہ آپ نے سکیم کی اسمبلی سے منظوری کا کہا تھا وہ دکھائیں کہاں ہے؟ مڈٹرم ڈویلپمنٹ فریم ورک کی بک اسمبلی نے منظور کی اور کابینہ نے بھی منظوری دی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ نالے کا رخ رمضان شوگر ملز کی طرف کیوں موڑا گیا؟ امجد پرویز ایڈووکیٹ نے گوگل میپ پیش کر دیا، نقشے کے تحت جامعہ آباد کے بعد وہاں آبادی نہیں تھی۔

 

 

عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر شہبازشریف کی درخواست ضمانت پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئےآشیانہ اور رمضان شوگر ملز کیس میں شہبازشریف کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے جبکہ فواد حسن فواد کی ضمانت کی درخواست مسترد کر د ی گئی ہے۔

 

نیب نے عدالت کو بتایا کہ فواد حسن فواد پر راولپنڈی پلازہ میں 10 منزلوں کی ملکیت اور موٹر وے سٹی کوٹ عبدالمالک میں شراکت داری کا الزام ہے، 1987 سے 1995 تک فواد حسن کے اثاثوں میں اضافہ نہیں ہوا، 2014 سے 2016 تک فواد حسن نے 8 کروڑ روپے قرض لیا۔ 

 

احاطہ عدالت میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر جیت ہوئی، عدالتوں کے سامنے پیش ہوئے اور ہوتے رہیں گے، اگر ایک پائی کی کرپشن ثابت ہو جائے تو سیاست سے کنارہ کشی کر لوں گا، خدا کا شکر ہے کہ سچ سامنے آیا۔

 

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو نیب میں صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا لیکن جب وہ بیان ریکارڈ کرانے پہنچے تو انہیں آشیانہ اسکیم کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔

حارث افضل  6 ماه پہلے

متعلقہ خبریں