این آر او لینا ہوتا تو جیل میں بیٹھا ہوتا، آصف زرداری

اسلام آباد (پبلک نیوز) سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے چوٹ کھائی ہے، اب حالات ٹھیک ہوں گے۔ چارٹر آف معیشت کی تجویز کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ چیرمین سینیٹ کی تبدیلی پر اسٹینڈ بلاول بھٹو لیں گے۔ عمران خان کو جمہوریت کی قدر نہیں۔ این آر او لینا ہوتا تو جیل میں بیٹھا ہوتا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نیب والے اپنی استعداد کے مطابق مجھ سے سوال کرتے ہیں۔ نیب کا میرے ساتھ رویہ عزت والا ہے۔ میں بھی نیب حکام کی عزت کرتا ہوں۔ چارٹر آف اکانومی کی تجویز دی وہ نہیں آرہے۔ چارٹر آف معیشت کی تجویز کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن تاریخ میں بات آگئی۔

 

چیرمین سینیٹ کی تبدیلی پر اسٹینڈ بلاول بھٹو لیں گے۔ بلاول کی اپنی سوچ ہے۔ جیسے بلاول کہیں گے ویسا ہوگا۔ ن لیگ کے ساتھ بیٹھ گئے عمران خان کے ساتھ بیٹھنا مشکل ہے۔ جو آسانی سے آتا ہے اسے جمہوریت کی قدر نہیں ہوتی اس لیے عمران خان کو جمہوریت کی قدر نہیں۔ عمران خان کو احساس نہیں عوام کو کیا مشکلات ہیں۔

 

وزیر اعلیٰ سندھ کی ممکنہ گرفتاری کی باتیں افواہیں ہیں کان نہ دھریں۔ این آر او ہوتا تو یہاں بیٹھا ہوتا؟ عمران خان سیاسی قوت سے نہیں آیا۔ عمران خان اور پرویز مشرف کی حکومت میں فرق وردی ہے۔ مشرف نے وردی پہنی تھی عمران خان نے وردی نہیں پہن رکھی۔ عمران خان آسانی سے آیا ہے اسے جمہوریت اور جمہوری جدوجہد کا کوئی ادراک نہیں۔

 

صحافی نے سوال کیا کہ ن لیگ سے آپ نے چوٹ کھائی ہے کیا گارنٹی ہے کہ ن لیگ کے ساتھ آئندہ چلنے کے لیے تیار ہوئے ہیں۔ آصف زرداری نے جواب دیا کہ ہم نے ٹھوکر کھائی ہے اور ن لیگ نے بھی دونوں کو سھنبل کر چلنا ہوگا۔ انسان چوٹ کھا کر ہی سیکھتا ہے۔ جس طرح حالات جارہے ہیں، جس طرح مہنگائی بڑھ رہی ہے اس حکومت کو جانا ہوگا۔

نیب کا افسران کے ساتھ میں بھی عزت سے پیش آتا ہوں وہ بھی میرے ساتھ عزت سے پیش آتے ہیں۔ قوموں نے جنگیں لڑی ہیں قومیں ایسے نہیں بنتی ہم پاکستانیوں کو ایک قوم بنا کر رہیں گے۔ چیئرمین سینیٹ کے تبدیلی کے حوالے سے فیصلہ بلاول بھٹو کریں گے۔ حکومت چارٹر آف اکانومی پر نہیں آرہی۔ میرا کام پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز دینا تھا۔ حکومت جواب میں میرا مذاق اڑا رہی ہے۔

 

ایک صحافی نے سوال کیا کہ مستقبل میں عمران خان کے ساتھ بیٹھا جا سکتا ہے۔ جس پر انھوں نے جواب دیا کہ عمران خان کو یہ بھی نہیں پتا کہ لوگوں کا کچن کیسے چل رہا ہے۔ ان کو نہیں پتا کہ پیٹرول مہنگا ہونے پر موٹرسائیکل والوں پر کیا اثر پڑا ہے۔ سائیکلیں تک مہنگی ہو گئی ہیں۔

 

اس دوران ایک اور صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ کی اپیل پر عمران خان کو لانے والے سوچیں گے تو ان کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ کوشش کرنے پر ابھی تک ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے اقتدار ملا ہے اختیار نہیں۔ عمران خان نہ پاور میں آیا ہے، نہ پاور میں جائے گا۔ عمران خان کا تو ایک ہی سلسلہ ہے جو لایا ہے وہ جائے گا۔

 

میڈیا ٹاک میں صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا اقتدار سے عمران خان بے دخل ہوں گے یہ پھر کابینہ بھی جائے گی۔ آصف زرداری کا جواب میں کہنا تھا کہ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں